حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع و نزول قرآن کریم کی روشنی میں

آیات قرآنیہ :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و رفع الی السماء کو قرآن مجید میں مختلف انداز سے بیان کیا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہودو نصاریٰ کے جو غلط عقائد و نظریات تھے قرآن مجید نے ان تمام کا رد کر کے صحیح عقیدے کو بیان کیا ہے چند قرآنی آیات ملاحظہ کیجئے ۔
آیت نمبر ۱:
وقولہم انا قتلنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وکان اللہ عزیزا حکیماً۔(نساء 155تا 158)
ترجمہ: (اللہ نے یہوپر لعنت کی )اور ان کے یہ کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا جو اللہ کا رسول تھا حالانکہ (انہوں حالانکہ یہود نے نہ اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ان کے پاس بھی اس معاملہ میں کوئی یقین نہیں محض گمان ہی کی پیروی ہے،انہوں نے یقیناانہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اُٹھا لیا اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ ان آیات میں یہودیوں کے دعوؤں کی تردید فرما رہے ہیں یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ ہم نے نبوت و رسالت کے دعویدار عیسیٰ بن مریم کو صلیب چڑھا کر قتل کر دیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما قتلوہ(یہودیوں نے انہیں قتل نہیں کیا )اور ان کے دعویٰ قتل کی تردید فرما رہے ہیں جبکہ وما صلبوہ(اور یہودیوں نے انہیں سولی نہیں چڑھایا )کے الفاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب چڑھائے جانے کی تردید فرما رہے ہیں کہ یہودی نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر سکے اور نہ ہی انہیں سولی چڑھا سکے ،اور قتل اور سولی سے بچانے کا انتظام یہ کیا کہ یہودیوں کی طرف سے ایک شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے کے لیے ان کے کمرے میں داخل ہوا تو اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھا لیا اسی کو وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ الیہ (یقینی بات ہے یہودیوں نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اُٹھا لیا )میں بیان فرمایا گیا ہے ۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو انسان ہیں وہ آسمان پر کیسے چلے گئے؟ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا وکان اللہ عزیزاًمیں جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز یعنی غالب ہے کسی انسان کو جسم سمیت آسمان پر اُٹھا لینا اس کی قدرت و قوت کے سامنے نا ممکن نہیں ۔پھر دوسرا سوال ہوتا ہے کہ دشمن سے بچانے کے لیے آسمان پر ہی کیوں اُٹھایا ؟تو اللہ فرماتے ہیں وکان اللہ عزیزاً حکیماً کہ اللہ حکمت والے بھی ہیں عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر لے جانے میں بہت سی حکمتیں ہیں ۔
بہرحال ان آیات کے ظاہری معنی پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہود کے دعویٰ قتل وصلب کی تردید فرمارہے ہیں کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کر سکے اور نہ سولی چڑھا سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے آسمان پر اُٹھا لیا ہے تمام مفسرین نے بھی اس آیات کی یہی تفسیر نقل کی ہے ۔
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بطور تسلی اپنی تدبیر پر مطلع فرما رہے ہیں کہ آپ کو بچانے کی تدبیر یہ ہو گی کہ ہم آپ کو آسمانوں پر اُٹھالیں گے اور دشمن کو اُن کے ارادوں میں ناکام کر دیں گے چنانچہ ارشاد فرمایا :
آیت نمبر۲:
ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین ۔
ترجمہ: انہوں (یہود) نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی ایک تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والے ہیں ۔
یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نہ صرف نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ کے دشمن بن گئے اور دشمنی میں یہاں تک بڑھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی تدبیر تیار کر کے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کی پوری کوشش کی یہود کی اسی تدبیر کو آیت کے لفظ’’ مکروا‘‘ میں بیان فرمایا ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف قتل کی تدبیر کی جبکہ اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچانے کی تدبیر کی اس کو ’’ومکر اللہ ‘‘میں بیان فرمایا ہے پھر آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کے بہتر اور غالب ہونے کا اعلان ’’وہو خیر الماکرین‘‘میں بیان فرمایا اور اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کے لیے ناپاک سازش تیار کی کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑیں گے گالی گلوچ اور مارپیٹ کرنے کے بعد سولی چڑھا کر قتل کر دیں گے جبکہ ان کی سازش کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچانے کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ اپنے ارادے میں غالب آگئے اور یہود جو آپ کو سولی پر چڑھا کر قتل کرنا چاہتے تھے وہ اپنے اس ناپاک ارادے میں مکمل ناکام و نامراد ہوئے ۔
آیت نمبر۳:
واذقال یا عیسیٰ انی متوفیک و رأفعک الی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔(آل عمران)
ترجمہ: جب (اللہ نے ) فرمایا بے شک میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں اور تجھے دشمنوں سے پاک (حفاظت) کرنے والا ہوں۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی بہترین تدبیر کا ذکر فرما یاکہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمن سے بچا کر جسم مع الروح اپنی طرف اُٹھا لیا اور دشمن کو نا کام و نامراد کر دیا بھلا جسے اللہ نقصان سے بچانا چاہے اُسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے ؟
آیت نمبر۴:
وان من اہل الکتاب الا لیومننّ بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیداً ۔
(سورۃ النساء 159)
ترجمہ: اور تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے اور وہ (عیسیٰ)قیامت کے دن اُن پر گواہ ہوں گے ۔
یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر نص صریح ہے اس سے ماقبل والی آیت میں یہود کے کفر اور عداوت اور ارادہ قتل کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا ذکر تھا جس سے یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آسمان پر جانے کے بعد کیا ہوگا ؟کیا یہود سے اُن کا تعلق ختم ہو چکا ؟حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کی گئی خیر تدبیر کی تکمیل کیا ہے ؟جب آسمان سے واپس تشریف لائیں گے تو کیا ہوگا ؟چنانچہ اللہ تعالیٰ ان خیالات کا اس آیت میں جواب دے رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں تشریف لائیں گے اس وقت موجود تمام اہل کتاب (یہودو نصاریٰ)اُن پر ایمان لے آئیں گے کہ بے شک آپ سچے رسول تھے اور آپ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں ہیں اور آپ کو قتل یا سولی نہیں چڑھایا گیا بلکہ آپ جسم سمیت آسمان پر اُٹھا لیے گئے تھے اور اُس وقت موجود اہل کتاب جب تک آپ پر ایمان نہ لے آئیں آپ کی وفات نہیں ہو گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب کے ایمان لانے پر قیامت کے دن گواہی بھی دیں گے اور اس دو بارہ نزول پر آپ اپنی قوم یہود پر غلبہ بھی پائیں گے کیونکہ رسول کے بارے میں قرآن مجید میں غلبے کا وعدہ ہے چنانچہ ارشاد خدا وندی ہے۔’’ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی اللہ‘‘ نے فرض کر دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ضرور بضرور غالب آئیں گے جیسے آنحضرتﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی لیکن بعد میں اپنی قوم کفار مکہ پر غالب آگئے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی ایک جہان سے دوسرے جہان ہجرت فرمائی اور بعد نزول اپنی قوم یہود پر غالب آ ئیں گے ۔
آیت نمبر۵:
اذ علّمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ۔ (سورۃ مائدہ 110)
ترجمہ:اے عیسیٰ یاد کریں جب ہم نے آپ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائی ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُن پر کیے گئے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ عیسیٰ آپ ہمارا یہ احسان بھی یاد رکھیں کہ ہم نے آپ کو تورات و انجیل کے علاوہ قرآن مجید کی تعلیم بھی دی تھی ،یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو بعثت کے بعد دو کتابوں اور شریعتوں کی تعلیم دی جاتی ہے ایک اپنی کتاب و شریعت کی تاکہ نبی اپنی قوم کو کتاب و شریعت کی تعلیم دے سکے اور دوسری اپنے سے ماقبل نبی کی کتاب و شریعت کی تاکہ قوم نے گزشتہ کتاب و شریعت میں جو تحریف و تبدل کیا ہے نبی اس کی نشاندہی کر کے حق بات کھول کر واضح کر دیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تین کتابوں اور شریعتوں کا علم دیا گیا ایک اپنی کتاب ’’انجیل ‘‘دوسری ماقبل نازل ہونے والی کتاب ’’تورات‘‘اور تیسری آنحضرتﷺ پر نازل ہونے والی آخری کتاب ’’قرآن مجید ‘‘حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کا سبب آپ کا اُمت محمدیہ میں دوبارہ نازل ہونا ہے اور کیونکہ آپ کا دوبارہ آنا آنحضرتﷺ کے اُمتی کی حیثیت سے ہوگا اس لیے خود بھی قرآن و سنت پر عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس کے موافق چلائیں گے جس کے لیے قرآن و سنت کا علم ضروری تھا ،اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی دوبارہ آنحضرتﷺ کے اُمتی کی حیثیت سے نہیں آنا تھا تو انہیں قرآن کیوں سکھایا گیا؟کیوں انبیاء سابقین میں سے کسی کو قرآن کی تعلیم نہیں دی گئی ؟