حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع و نزول احادیث کی روشنی میں

احادیث مبارکہ 
حدیث نمبر 1 :
عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(حدیث نمبر۲ کتاب میں )(مشکوۃ ص480باب نزول عیسیٰ بن مریم )
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام زمین کی طرف اُتریں گے وہ نکاح کریں گے اور اُن کی اولاد ہو گی اور وہ پینتالیس سال تک رہیں گے پھر وفات پائیں گے اور میرے پاس میرے مقبرے میں دفن ہوں گے میں اور عیسیٰ بن مریم (قیامت کے دن )ابوبکر اور عمر کے درمیان سے ایک ہی مقبرے سے اُٹھیں گے ۔
اس حدیث شریف میں رسول اللہﷺ نے وضاحت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کو بیان فرما دیا ہے اور چونکہ جب وہ آسمان پر گئے تھے تو ان کا نکاح نہیں ہوا تھا جبکہ نکاح انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے اس لیے دوبارہ آنے پر نکاح فرمائیں گے جس سے اُن کو اولاد بھی ہو گی اور نزول کے بعد حاکم بن کر پینتالیس 45سال زندہ رہیں گے اور ان کی طبعی وفات ہو گی ان کی تدفین آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک میں ہوگی جہاں آج بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ خالی ہے ۔
حدیث نمبر 2:
یحدث ابوہریرۃ رضلی اللہ عنہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معمراً او لینثہما۔(مسلم ج 1ص 408)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ! مجھے اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ابن مریم مقام روحاء میں حج یا عمرے کا احرام باندھیں گے یا حج قران کریں گے ۔
اس حدیث پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی علامات میں سے ایک بڑی علامت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ سچے مسیح علیہ السلام حج کریں گے اور روحاء نامی گھاٹی کے مقام سے احرام باندھیں گے ۔
اس حدیث پاک کو سرکار دو جہاں ﷺنے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے اور قسم تب کھائی جاتی ہے جب کسی بات کے بارے میں شک و شبہ کو دور کرنا ہو یا بات کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہو مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان پر بغیر کسی شک و شبہ کے اٰمنّاو صدّقنا کہہ کر سر تسلیم خم کر دے ۔
حدیث نمبر3:
الستم تعلمون ان ربنا حیّ لا یموت وانّ عیسیٰ یاتی علیہ الفناء(صحیح ج1ص 87)
ترجمہ:کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا پرور دگار زندہ ہے اُسے موت نہیں آئے گی اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔
یہ لمبی حدیث کا ایک حصہ ہے جس کا شان ورود یہ ہے کہ نجران کے عیسائی پادری جن کی تعداد 80کے قریب تھی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُلوہیت (الٰہ ،معبود )کے بارے میں مناظرہ اور مکالمہ کیا آپﷺنے اُن پادریوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معبود نہ ہونے پر تین باتیں ارشاد فرمائیں ان میں سے ایک بات ’’الستم تعلمون ان ربنا حیّ لا یموت وان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء‘‘کہ ہمارا رب زندہ ہے فوت نہیں ہوگا جبکہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی ۔تو اُلوہیت کی تردید میں آپﷺ کی گفتگو سن کر 80پادری لاجواب ہو گئے ۔
یہاں یہ بات بڑی قابل غور ہے کہ آپﷺ نے یاتی علیہ الفناء فرمایا ہے جس کا مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آئندہ زمانے میں موت آئے گی ،اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہوتے تو آپﷺ یاتی علیہ الفناء نہ فرماتے بلکہ ماضی کے صیغے کے ساتھ آتٰی علیہ الفناء فرماتے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں ،آپﷺ کا یاتی علیہ الفناء فرمانا حیات عیسیٰ علیہ السلام پر واضح دلیل ہے ۔
حدیث نمبر4:
عن الحسن قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیہود انّ عیسیٰ لم یمت وانّہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ۔
ترجمہ:امام حسن بصری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے یہود کو مخاطب کر کے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور بے شک قیامت سے پہلے وہ تمہاری طرف واپس آئیں گے ۔
اس حدیث شریف میں آنحضرت ﷺ یہود کے باطل عقیدے کی تردید فرمارہے ہیں یہود کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو آپﷺ نے وضاحت کے ساتھ اعلان فرمادیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے قرب قیامت میں وہ واپس آئیں گے ۔اس حدیث شریف میں ’’انّہ راجع الیکم‘‘ کے الفاظ قابل غور ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ دوبارہ لوٹ کر آئیں گے اور ظاہر ہے کسی مقام پر دوبارہ آنا ،لوٹنا اُسی وقت ہوتا ہے جب پہلے وہاں سے گئے ہوں تو مطلب یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر دوبارہ آئیں گے۔
حدیث نمبر 5:
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم ۔
(کتاب الاسماء والصفات ص 424)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ تمہارا (خوشی سے )کیا حال ہوگا ابن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔(یعنی حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور بھی ہوچکا ہوگا)۔
حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا واضح اعلان موجود ہے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی جلالت شان کی سیادت و قیادت کو صرف اہل اسلام تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ ایک خارق عادت امر کا ظہور مقدر فرمایا ہے جس کے سامنے موافق و مخالفت ،مسلمان و اہل کتاب کو خوشی یا ناگواری سے سر تسلیم خم کرنا ہوگا ،جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہایت جلال کے ساتھ آنحضرتﷺ کے خلیفہ و نائب بن کر نازل ہوں گے ،اہل اسلام کے لیے وہ کیسا قابل فخر منظر ہوگا جب بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام الانبیاء ، خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کے اُمتی کی حیثیت سے نازل ہو کر آپﷺ کی سروری و سرداری کی گواہی دیں گے اس حدیث میں آپﷺ نے اپنی اُمت کو اسی کی اہمیت کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ اس وقت تمہاری خوشی کا کیا عالم ہوگا جب عیسیٰ علیہ السلام تم میں نازل ہوں گے لیکن قادیانی ذریت یہود و نصاریٰ کی ایجنٹ بن کر نزول مسیح علیہ السلام جیسے مبارک عقیدے کے بارے میں اہل اسلام کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آنحضرتﷺکی جلالت شان اہل دین پر ظاہر نہ ہو سکے ۔ (نعوذباللہ )