رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے منکر کا شرعی حکم

رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے منکر کا شرعی حکم :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا انکار کرنے والے کو حضرات علماء کرام نے کافر کہا ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا عقیدہ قرآن مجید کی کئی آیات سے قطعی طور پر ثابت ہے اور ساری اُمت کا اتفاق ہے کہ:
کذالک وقع الاجماع علی تکفیر کل من دافع نص الکتاب
اس بات پر ساری اُمت کا اجماع ہے کہ جو شخص قرآن کی نص قطعی (حکم قطعی )کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے ۔ (شفا ء ج 2ص247)

حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نزول کا عقیدہ آنحضرت ﷺ کی احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور ساری اُمت کا اتفاق ہے کہ احادیث متواترہ سے ثابت شدہ کسی حکم و عقیدے کا انکار کرے وہ بھی اکفر ہے ۔ 
علامہ ابن حزم لکھتے ہیں :
صح الاجماع علی ان کل من جحد شیئاً مع عندہ بالاجماع ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتی بہ فقد کفر۔ (کتاب الفصل ج 2ص275)
ترجمہ: اس پر اُمت کا اجماع ہے کہ ہر وہ شخس کس نے ایسے حکم یا عقیدے کا انکار کیا جو ہمارے نزدیک اجماعاً ثابت ہو چکا ہو کہ اس کو حضور ﷺ نے بیان فرمایا ہے وہ کافر ہے ۔
علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آخری زمانے میں نازل ہونا قرآن مجید سے ثابت ہے جس پر ایمان لانا واجب ہے اور نزول مسیح کے منکر کو کافر سمجھا گیا ہے جیسے فلاسفہ ۔
(تفسیر روح المعانی ج22ص 32)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا انکار کرنا یا اُن کی نبوت کا انکار کرنا دونوں کفر ہیں ۔
(الحاوی للفتاویٰ ج 2ص)
رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے منکر کے کفر پر دنیا بھر کے سینکڑوں جید مفتیان کرام کے فتاویٰ جات ،تحرارات اور تائیدات دیکھنے کے لیے ’’فتوی حیاۃ مسیح ‘‘مرتب مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ کا مطالعہ کریں ۔
نزول مسیح علیہ السلام پر اجماع اُمت :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء پر ساری اُمت کا اجماع ہے رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اجماع اُمت کے چند حوالہ جات ملاحظہ کیجئے ۔
امام ابو محمد عبد الحق بن عطیہ اندلسی (وفات 541ھ)لکھتے ہیں:
اور اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو احادیث متواترہ میں آئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔
(المحرر الوجیز فی تفسیر کتاب الفریز ج2ص237)
بخاری شریف کے شارح حافظ ابن حجر عسقلانی (وفات852ھ )فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے بارے میں محدثین و مفسرین کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ آپ کو زندہ جسم سمیت اُٹھا لیا گیا۔
(تلخیس البحیر ج3ص431)
امام ابو الحسن اشعری (وفات324ھ )لکھتے ہیں کہ اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھا لیا (الابانۃ فی اُصول ادیانۃ ص35)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی اپنی کتاب ’’بیان تلبیس الجہیمیۃ‘‘کی جلد نمبر 4اور صفحہ نمبر 457پر امام ابو الحسن اشعری کی مذکورہ عبارت نقل کر کے رفع عیسیٰ علیہ السلام کے اجماعی ہونے پر اتفاق کیا ہے ۔