حضرت سیّدنا المسیح عیسیٰ بن مریم علیہما السلام مرزے علیہ اللعنۃ کی نظرمیں

حضرت سیّدنا المسیح عیسیٰ بن مریم علیہما السلام مرزے گامے علیہ اللعنۃ کی نظرمیں ‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شمار اللہ تعالیٰ کے اولو العزم پیغمبروں میں ہو تا ہے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام، آپ کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام اور آپ کے خاندان کے حالا ت و کمالات کا جس تفصیل سے ذکر کیا ہے کسی اور نبی کا اس تفصیل سے ذکر نہیں کیا ہے لیکن مرزا قادیانی نے ان تمام فضائل و کمالات کے با وجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات ،معجزات، والدہ اور خاندان کے بارے میں وہ بکواسات کی ہیں اور ایسے گھٹیا ں اورفحش الزامات لگائے ہیں کہ یہودیوں کے بھی کان کتر لیے ہیں ، اس کی وجہ مرزا کا اپنے مسیح ہو نے کے دعویٰ کو چلا نے کے لئے راہ ہموار کر نا تھی کیونکہ لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور آپ کو بڑے بڑے معجزات دیے گئے تھے جبکہ مرزا قادیانی کی ذات اور خاندان کا کردار اس کے بالکل متضاد تھا ، اب دعویٰ مسیحیت(عیسیٰ ہو نے کادعویٰ ) میں برابری کی ایک صورت تو یہ تھی کہ مرزا قادیانی اخلاق و کردار اورصفات وکمالات میں عیسیٰ علیہ السلام جیسا ہوتا اور مرزے کا خاندان شرافت وکرامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خاندان کے برابر ہوتا لیکن یہ صورت مرزا قادیا نی کے بس سے باہر تھی اس لئے مرزا قادیانی نے دوسری صورت یہ اختیار کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ اور ان کے خاندان کی عظمتوں کو ختم کر کے برابری کی کوشش کی اسی مماثلت کو قائم کرنے کے لئے مرزا قادیانی کہا ں تک پہنچا ہے چند قادیانی عبارات ملاحظہ فرمائیں :
حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام پر بہتان:
حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کی پاک دامنی ، طہارت اور بزرگی کو قرآن مجید میں جابجا بیان فرمایا گیا ہے قرآن مجید کی ایک سورۃ کا نام ہی ’’مریم ‘‘رکھا گیا ہے جس میں حضرت مریم علیہا السلام کے فضائل ومناقب کو تفصیلا بیان فرمایا ہے لیکن مرزا قادیانی نے یہودیت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ پر ناجائز حمل کی تہمت لگائی ،قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت مریم کا یوسف نجار نامی شخص سے تعلق تھا اس تعلق کی وجہ سے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ٹھہرااور پھر جب حمل ظاہر ہوا تو مریم کے قبیلہ کے بزرگوں نے شرمندگی سے بچنے کے لئے مریم کا یوسف ہی سے نکاح کرکے رخصت کر دیا ، اس نکاح کے دو ماہ کے بعد مریم کے ہاں لڑ کا ہوا اسی لڑکے کو عیسیٰ ، مسیح کہتے ہیں ۔(نعوذ باللہ)
مریم کی تو وہ شان ہے کہ جس نے ایک مدت تک اپنے تیءں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اسرار سے بوجہ حمل نکاح کر لیا ۔
حضرت مریم کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے ۔
(خزائن ج14ص300)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خاندان :
مرزا قادیانی نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ پر الزامات لگانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ علیہ السلام کے خاندان کے بارے میں غلیظ نظریات نکال کر کے یہودیت سے چار قدم آگے بڑھا ہے لکھتا ہے :
آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھی جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔
عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتاہے :
ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب کبھی آپ نے سوچا ہو گا ہم تو سوچ کر تھک گئے ،اب تک کو ئی جواب خیال میں نہیں آیا کیا ہی خوب خدا ہے کہ جس کی دادیا ں اور نانیاں اس کمال کی ہیں ۔
(خزائن ج9ص294)
حضرت سیّدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے بارے میں مرزا قادیانی کے نظریات:
جب مرزا قادیانی کے ناپا ک قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور خاندان محفوظ نہ رہے تو جن کے منصب پر حملہ کیا ہے انہیں کہا چھوڑنا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قادیانی نظریات ملاحظہ کیجئے ۔
قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرابی تھے ۔
مسیح کا چال چلن کیا تھا ایک کھاؤ،پیو ،شرابی نہ زاہد ، نہ عابد نہ حق پرستار ، متکبر ، خود بین ، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔
یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا ایک سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے ۔ (خزائن ج19ص71)
قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کنجریوں سے ناجائز تعلق بھی تھا ۔
آپ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا کنجریوں سے ملان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت (خاندانی مناسبت) درمیان میں ہے ورنہ کو ئی پرہیز گا ر ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دیتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلیدعطر اس کے سر پر ملے او ر اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے ۔
(خزائن ج11ص291)
ایک کنجری خوبصورت ایسی بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشہ کر رہی ہے یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد (غیر شادی شدہ)اور ایک خوبصورت کنجری عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے ؟۔ (خزائن ج9ص449)
قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام گالیاں بھی دیا کرتے تھے اور جھوٹ بھی بولتے تھے ملاحظہ ہو:
ہاں آپ( یسوع مسیح ) کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی ۔ (خزائن ج11ص289)
یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی ۔ (خزائن ج11ص289)
معجزات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ برگزیدہ پیغمبر ہیں جن کے ہاتھ پر بہت سے معجزات کا ظہور ہوا جن کا ذکر قرآن مجید کی سورتوں میں موجود ہے لیکن مرزا قادیانی نے ان آیات کی بودی تاویل کرتے ہوئے معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار واستہزاء کیا ہے ۔
عیسیائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں لیکن حق بات یہ ہے کہ آپ سے کو ئی معجزہ نہیں ہوا۔
(خزائن ج11ص290)
اپنے عقیدے کو یہودیوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے :
اور بموجب بیان یہودیوں کے اس (یسوع مسیح ) سے کو ئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا ۔
(خزائن ج20ص344)