حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاۃ اور ان کے رفع و نزول کا عقیدہ

عقیدہ ختم نبوت کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاۃ اور ان کے رفع و نزول کا عقیدہ بھی اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریات دین میں شامل ہے جو قرآن مجید کی آیات ،احادیث متواترہ اور اجماع اُمت سے ثابت ہے اور جس طرح عقیدہ ختم نبوت کا انکار کرنا صریح کفر ہے ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاۃ اور اُن کے رفع و نزول کے عقیدے کا انکار کرنا کفر ہے ۔
قادیانی فتنے کا بانی مرزا غلام قادیانی جہاں اور بہت سے مسلمہ عقائد کا انکار کر کے کفر کی نجس دلدل میں اُترا ہے وہاں عقیدہ رفع و نزول عیسیٰ کا بھی انکار کر کے مزید اس دلدل میں پھنسا ہے قادیانیت کے آغاز سے آج تک قادیانیوں کے ہر ہر فردکو (خواہ وہ قادیانیت کے بارے میں تفصیلات جانتا ہو یا نا جانتا ہو ) یہ بات ضرور رٹائی جاتی ہے کہ قادیانیوں کا اہل اسلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاۃ و وفات اور ان کے رفع و نزول میں اختلاف ہے اس لیے جب کسی سادہ مسلمان کی کسی قادیانی سے بات ہوتو قادیانی کہتا ہے کہ ہمارا تو عام مسلمانوں کے ساتھ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاۃ و وفات اور ان کے رفع و نزول میں اختلاف ہے ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اب دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں قرب قیامت میں دوبارہ آئیں گے اب اگر تم مسلمان لوگ یہ ثابت کر دو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور دوبارہ آئیں گے تو میں اقرار کر لوں گا کہ قادیانیت غلط ہے ۔
قارئین کرام ! مرزائیوں کا حیاۃ و وفات اور رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر بحث کا تقاضا کرنا اتباع حق کے شوق کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس موضوع پر بحث سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح سے بھی گفتگو ’’قادیانیت ‘‘اور ’’مرزاقادیانی کی شخصیت اور کردار‘‘پر نہ آئے کیونکہ قادیانی کتب سے مرزا قادیانی کی جو صورت نمایاں ہوتی ہے وہ اس قدر خوفناک ہے کہ قادیانی اس کی سوچ سے ہی کانپتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ قادیانیوں کے ساتھ ہمارا اصل جھگڑا بھی مرزا قادیانی کی ذات کا ہے کیونکہ نزاع صرف حیاۃ و وفات اور رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام میں ہی نہیں ہے اور نا ہی مرزا قادیانی کا صرف وفات عیسیٰ علیہ السلام کا دعویٰ ہے بلکہ مرزا قادیانی کے دو دعوے ہیں ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ اور دوسرا مسیح موعود (عیسیٰ) ہونے کا دعویٰ بالفرض اگر قادیانی آیات قرآنیہ میں تحریف ،احادیث نزول مسیح علیہ السلام کی بودی تاویل اور اجماع اُمت کا انکار کرتے ہوئے وفات مسیح علیہ السلام ثابت بھی کر دیں تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ مرزا قادیانی کے دوسرے دعویٰ (کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہے )کا ثبوت مرزائیوں کے ذمے رہے گا اور پھر ہماری طرف سے یہ سوال ہوگا کہ مرزا قادیانی مسیح کیسے ؟ کیا مرزا قادیانی میں احادیث میں بتائی گئیں علامات پائی جاتی ہیں کیا؟ مرزا قادیانی جیسی شخصیت و کردار والا شخص روحانیت کے منصب کا اہل ہو سکتا ہے ؟ غرض یہ کہ حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام کے بعد پھر گفتگو مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار اور اس کے صدق و کذب پر آ جائے گی تو جب لمبی چوڑی بحث کے بعد بھی گفتگو مرزا قادیانی کے صدق و کذب پر ہی کرنی ہے تو ابتداً ہی اس موضوع پر گفتگو کر لینی چاہیے اور ویسے بھی مرزا قاد یانی کی شخصیت و کردار اور اس کے صدق و کذب پر بات کرنے سے زیادہ عام فہم اور فیصلہ کن موضوع اور کوئی نہیں ہے کیونکہ اس موضوع میں علماء اسلام مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار پر بات کرتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ ، پیغمبر اسلامﷺ، انبیاء کرام ، صحابہ کرام ، حرمین شریفین ،قرآن و سنت اور شعائر اسلام کی گستاخی اور توہین کرتا تھا ،جھوٹ بولتا تھا ، گالیاں دیتا تھا ،بیماریوں کا مجموعہ تھا ۔جھوٹی پیشنگوئیاں کرتا تھا وغیرہ وغیرہ اور اس موضوع میں جن کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ اُردو میں اور خود مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کے قلم سے لکھی ہوئی ان کی اپنی تحریرمیں ہیں اس لیے اس موضوع پر بات سے عوام الناس کو فائدہ حاصل کرنے کا موقع زیادہ ہے اور نتیجہ تک پہنچنا آسان ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مرزائیوں کے علاوہ یہودی ،بہائی ،منکرین حدیث بھی حیات اور رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں لیکن مرزائی طبقہ ان لوگوں کو اپنی جماعت کا فرد (مرزائی) نہیں سمجھتے وجہ یہی ہے کہ یہ سب اگرچہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ تو رکھتے ہیں لیکن مرزا قادیانی کو مجدد ،مہدی ، مسیح اور نبی نہیں مانتے اس لیے مرزائیوں کے نزدیک جیسے حیات اور رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھنے والے (مسلمان )گمراہ ،کافر اور مشرک ہیں ایسے ہی یہ لوگ (یہودی بہائی وغیرہ )وفات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرنے کے باوجود گمراہ ہیں وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ اگرچہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں لیکن مرزا قادیانی کو نا ماننے کی وجہ سے کافر ہیں تو اسلام اور کفر کی اصل وجہ تو قادیانی کو ماننا اور نہ ماننا ہوئی نہ کہ حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام اس لیے اہل اسلام مطالبہ کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار پر گفتگو ہونی چاہیے تاکہ کوئی نتیجہ بر آمد ہو سکے یہ بھی حقیقت ہے کہ قادیانی زہر کا پیالا تو پی سکتے ہیں لیکن قادیانیت اور مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار پر گفتگو نہیں کر سکتے ۔ 
مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کیوں کیا؟
اس کا سیدھا اور سچا جواب تو یہی ہے کہ انگریز کے حکم سے جہاد کی حرمت کا اعلان کرنے کے لیے کیونکہ اسلام میں نظریہ جہاد ایسا ہے جس سے کفر ہمیشہ لرزاں ترساں رہا ہے اور مختلف ادوار میں عالم کفر اس نظریہ سے کافی تلخ تجربہ حاصل کر چکا تھا بر صغیر پاک و ہند میں انگریز کو مسلمانوں کا غلام بنانے اور اپنے ظالمانہ تسلط کو طول دینے میں سب سے بڑی رُکاوٹ یہی نظریہ جہاد تھا اس لیے انگریز نے اس نظریہ کو ملت اسلامیہ کے اذہان سے کھرچنے کے لیے جب غور و فکر کیا تو اس کے سامنے یہ بات آئی کہ اہل اسلام کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں اسلام کے عالمی غلبہ کے لیے نزول فرمائیں تو اس وقت جہاد موقوف کر دیں گے اس لیے انگریز نے یہی طریقہ اختیار کیا کہ کسی شخص سے مسیحیت کا دعویٰ کروایا جائے جو مسیح ہونے کی حیثیت سے جہاد کی حرمت کا اعلان کرے چنانچہ انگریز نے مرزا قادیانی کو چن کر یہ مقصد سونپ دیا اسی لیے مرزا قادیانی کی اگرچہ ہر بات میں تضاد ہے لیکن انگریز کی اطاعت اور حرمت جہاد کے بارے میں پہلے دن سے آخری دن تک ایک ہی نظریہ پر قائم رہا ہے مرزا قادیانی کی انگریزی اطاعت کے بارے میں چند عبارات ملاحظہ فرمائیں :
میں اس کی (انگریز حکومت ) کی مدد کے لیے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اس زمانے سے خدا تعالیٰ سے عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جوجس میں احسانات قیصرہ (ملکہ برطانیہ) کا ذکر نہ ہو نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے ۔ (خزائن ج 8ص 39)
میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ 60 برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں ۔
مزید لکھتا ہے میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں وہ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کریں اور دوسرے اس (انگریزی )سلطنت کی ۔
گورنمنٹ انگریزی کی نا فرمانی کے بارے میں لکھتا ہے :
اگر ہم گورمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سر کشی کرتے ہیں ۔
(خزائن ج 6 ص 380.)
انگریزی مسیح مرزا قادیانی انگریز کی طرف سے سونپے گئے دوسرے مقصد حرمت جہاد کے بارے میں لکھتا ہے :
ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھے مسیح موعود مانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے ۔
اپنی جماعت کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتا ہے :
یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بے ہودہ رسم کو اٹھا دے ۔
اپنی خدمات جلیلہ جا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :
میری تعلیم کے نتیجہ میں لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیے جو نا فہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں پیدا ہوئے تھے ۔
قارئین کرام! یہ ہے مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کا اصل مقصد جس کے حصول کے لیے ساری دوڑ دھوپ رہی لیکن کیا مرزا قادیانی کو ان مقاصد میں کامیابی ملی،کیا مسلمانوں نے انگریز کا شکر بجا لانے کو واجب سمجھا ؟ کیا مسلمانوں کے دلوں میں انگریز کی سچی محبت خیر خواہی اور ہمدردی آسکی ؟کیا مسلمانوں نے اسلام کے دو حصوں آنحضرتﷺ کے دین کے غلبہ اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی جگہ انگریز کی اطاعت کو فرض سمجھا ؟کیامسلمان جہاد کو حرام سمجھنے لگے؟کیا جہادی خیالات و نظریات اہل السلام کے قلوب سے نکل گئے اور اُنہوں نے جہادی خیالات کو غلیظ اور ناپاک سمجھا اور کیا جہاد و قتال اور جنگوں کا خاتمہ ہو گیا اس کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے بعد دو بڑی جنگیں 1916 ۔1942میں ہو چکی ہیں اس کے علاوہ کویت ،عراق ، اسرائیل ،فلسطین ،لبنان اسرائیل ،پاکستان انڈیا ،افغانستان روس،افغانستان امریکہ اور بیسوں چھوٹی بڑی جنگیں ہو چکی ہیں جو کہ مرزا قادیانی کے کذب پر منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
قارئین کرام !حضرت المسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے بارے میں حدیث شریف میں ’’یضع الحرب ‘‘(وہ جنگ روک دیں گے )کے جو الفاظ آئے ہیں اُن کے یہی معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعددجال کو قتل کریں گے اور پوری دنیا میں اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے گا اور کفر کا خاتمہ ہو جائے گا اس لیے جنگ و قتال بالکلیہ موقوف ہو جائے گا اور عالمی امن قائم ہو جائے گا ’’یضع الحرب‘‘ کا یہ معنی نہیں ہے کہ کافروں سے جنگ کرنا حرام ہو جائے گی اور جو کوئی بھی ان مقاصد کے حصول کے لیے جہاد کرے گا وہ حرامی ،بدکار، اللہ اور رسول کا نا فرمان ہوگا۔