’’قادیانی عقلی شبہات‘‘ 
قادیانی جماعت رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے پر جہاں قرآن و حدیث کے دلائل پر شبہات پیش کرتے ہیں وہاں چند منطقی قسم کے بھی شبہات پیش کر کے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے قادیانی کہتے ہیں کہ وہ کیسے آسمان پر گئے ؟وہاں کھتے پیتے کیا ہیں ؟اتنے لمبے عرصے سے زندہ کیسے ہیں ؟ایسے تمام تر اعتراضات کی بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے صرف نظر کرنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عام انسانوں پر قیاس کرنا ہے قادیانی شبہات کے جواب سے پہلے بطور تمہید چند باتیں سمجھ لی جائیں ۔
اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں اور جس قدر حالات و واقعات پیش آتے ہیں اُن کی دو قسمیں ہیں :
۱۔ معمولات ۲۔ غیر معمولات
(1)معمولات:ان سے مراد وہ حالات و واقعات ہیں جو عام عادت کے موافق ہو جیسے سورج کا مشرق سے نکلنا ،نر اور مادہ کے ملاپ سے انسان کا پیدا ہونا ۔
(2)غیر معمولات ان سے مراد وہ حالات و واقعات ہیں جن کا ظہور عام عادت کے خلاف ہو جیسے قرب قیامت میں سورج کا مغرب سے نکلنا ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی کا سانپ بن جانا ،حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا بغیر اُونٹ کے ملاپ سے بچہ دینا وغیرہ اور اُصول یہ ہے کہ معمولات کو غیر معمولات پر قیاس نہیں کر سکتے جیسے کوئی شخص کہے کہ میں نہیں مانتا کہ لاٹھی سانپ بن سکتی ہے اگر ایسا ہے تو تم بھی لاٹھی پھینک کر اُسے سانپ بنا کر دکھاؤ ایسے معترض کو کہا جائے گا کہ لاٹھی کا سانپ بننا خرق عادت (غیر معمول )ہے جبکہ معمول میں تو سانپ انڈوں سے نکلتا ہے اور غیر معمول کو معمول پر قیاس نہیں کرنا چاہیے ورنہ نتیجہ غلط ہی آئے گا ۔
قادیانیوں کا رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے پر منطقی اورعقلی اعتراضات کرنا بھی اسی وجہ سے ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عام انسانوں پر قیاس کرتے ہیں حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش غیر معمول کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے ،ماں کی گود میں کلام کرنا غیر معمول ،اعلان نبوت کرنا غیر معمول (کہ نبی چالیس سال کی عمر میں اعلان نبوت کرتا ہے جبکہ آپ نے ماں کی گود میں اعلان کیا )پھر طرز زندگی غیر معمول اس وجہ سے ہجرت بھی غیر معمول غرض یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ساری زندگی غیر معمول ہے اس لیے اُنہیں عام انسانوں پر قیاس نہیں کر سکتے ورنہ اسلامی عقیدے پر شبہات ہی پیش آئیں گے ۔
رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام میں شبہات کی دوسری بڑی وجہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے صرف نظر کر لینا ہے کیا کسی کو آسمان پر لے جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے ؟کسی کو بغیر کھلائے پلائے زندہ رکھنا اللہ تعالیٰ کی طاقت سے باہر ہے کیا کسی کو لمبی عمر دینا اور صحت مند رکھنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے ؟تاہم اتمام حجت کے لیے چند مرزائی شبہات کے جوابات پیش خدمت ہیں ۔
شبہ، اعتراض نمبر1:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر کیسے چلے گئے جبکہ درمیان میں خلا ہے آگ اور برف کے کرے ہیں اور پھر اتنے لمبے عرصے تک زندہ رہنا بھی عقل میں نہیں آتا ؟
جواب:حضرت آدم علیہ السلام بھی تو جنت سے زمین پر جسم عنصری کے ساتھ تشریف لائے تھے ،آنحضرت ﷺ بھی تو معراج پر گئے تھے ،آج ایک عام مسلمان بھی تو خلا میں سفر کر رہا ہے جب ایک عام انسان اختیار کر کے خلاؤں میں گھوم سکتا ہے تو کیا مسبب الاسباب ذات کسی کو بغیر اسباب کے آسمان پر نہیں لے جا سکتی ؟۔
کیا حضرت آدم و نوح علیہاالسلام کو ہزار برس سے زائد عمر کا ملنا آج کل کی عقل میں آتا ہے ؟پہلی قوموں کے پچاس پچاس ہاتھ لمبے قد و قامت والے جسم اور سینکڑوں برس لمبی عمریں عقل میں آتی ہیں ؟کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کا سرد ہونا ،حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ،حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا پہاڑ سے نکل کر بچہ دینا اور دیگر انبیاء کے معجزات عقل میں آتے ہیں ؟کیا انسان کی پیدائش کا عمل عقل میں آتا ہے ؟کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا عمل عقل میں آتا ہے ؟۔
اور پھرہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ یہ آگ اور برف کا کرہ کس نے بنایا ہے ؟اور کیا اس ذات کے لیے آگ اور برف کی تاثیر ختم کر دینا ناممکن ہے ؟یقیناً جو ذات ان کو بنانے والی ہے وہی ذات عیسیٰ علیہ السلام کو بھی لے جانے والی ہے اور اس کی طاقت و قدرت اور حکم کے سامنے کسی کرّے کی کیا مجال۔
شبہ ،اعتراض نمبر 2:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان تھے اور انسان کا خوراک کے بغیر زندہ رہنا محال ہے تو اگر عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں تو کیا کھاتے ہوں گے ؟
جواب: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے میزبان اللہ تعالیٰ ہیں اُن کے کھانے کی فکر قادیانیوں کے ذمہ نہیں ہے اور کیا بغیر کھلائے پلائے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے بعید ہے ؟کیا اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو سال سے زائد عرصہ بغیر کھلائے پلائے زندہ نہیں رکھا ؟کیا حضرت عزیر علیہ السلام سو سال بغیر کھائے پیئے زندہ نہیں رہے ؟۔
حدیث شریف کے مطابق خروج دجال کے وقت تین سال کے لیے قحط پڑے گا تو مومنین کی خوراک وہی ہو گی جو آسمان والوں کی ہے یعنی تسبیح و تقدیس۔ (مسند احمد حدیث نمبر 25579)
اس حدیث سے دو باتیں حاصل ہوئیں ایک یہ کہ آسمان والوں کی خوراک ذکر و تسبیح ہے اور عیسیٰ علیہ السلام چونکہ آسمان پر ہیں اس لیے اُن پر وہیں کا قانون نافذ ہوگا اور دوسری بات یہ کہ خروج دجال کے وقت مومنین بغیر خوراک کے زندہ رہیں گے تو جو رب مومنین کو بغیر خوراک کے زندہ رکھ سکتا ہے کیا وہ عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر خوراک کے زندہ رکھنے پر قادر نہیں ہے ؟۔
اعتراض ،شبہ نمبر 3:
قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر زندہ ماننا اور آنحضرت ﷺ کو اپنے روضے میں زیر زمین ماننا یہ آنحضرتﷺ کی توہین ہے۔
جواب:حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر جانا آنحضرتﷺ کا زمین میں مدفون ہونا ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آنحضرت ﷺ پر فضیلت کی دلیل نہیں کیونکہ آپ ﷺ جہاں آرام فرما ہیں اُس جگہ کے بارے میں آپﷺ کا ارشاد مبارک ہے ما بین بیتی ومنبری روضۃ من الریاض الجنۃ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے‘‘ یعنی آپ ﷺ کا روضہ مبارک جنت ہے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جنت آسمان سے اعلیٰ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ جگہ پر آرام فرماہیں ۔
قادیانیوں کی یہ منطق کہ اوپر نیچے ہونے سے عظمت یا تنقیص لازم آتی ہے عقلا و نقلا غلط ہے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
(1)فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں جبکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام زمین میں مدفون ہیں تو کیا اس سے فرشتوں کو انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت و عظمت حاصل ہو گی ؟۔
(2)پرندے فضاؤوں میں اُڑتے ہیں جبکہ انسان سمیت انبیاء ،صحابہ ،اولیاء ،علماء ،زمین میں مدفون ہوتے ہیں تو کیا پرندے انسانوں سے اعلیٰ ہو گئے؟۔
(3)اگر کوئی شاگرد یا بیٹا بالائی منزل پر ہو جبکہ اُستاد اور باپ نچلی منزل میں ہوں تو کیا شاگرد کو اُستاد پر اور بیٹے کو باپ پر فضیلت حاصل ہو جائے گی ؟۔
(4)اور اگر اب بھی قادیانیوں کو بات سمجھ میں نہ آئے تو ہمارا سوال ہے کہ مرزا قادیانی زیر زمین ہے جبکہ قادیان کی زمین پر کتے ،خنزیر گدھے اور قادیانی سب پھرتے ہیں تو کیا قادیانی کہیں گے کہ یہ سب جانور اور قادیانی زمین کے اوپر ہونے کی وجہ سے شان ،مقام اور عظمت میں مرزا قادیانی پر بڑھے ہوئے ہیں ۔
قادیانی عقائد پر ہمارے چند سولات:
قادیانی ذریت کو گفتگو کے لیے جو اُصول سکھائے جاتے ہیں اُن میں سب سے بڑا اور اہم اُصول یہ ہے کہ ہمیشہ بے اُصولی ،بے ربطی اور بے ترتیبی بات کرو اور جب بھی بات کرتے ہوئے پھنس جاؤ تو فوراً کسی اور موضوع پر گفتگو شروع کر دو قادیانی طبقہ رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام پر اسی اُصول کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کرتا ہے قادیانی جب بھی اس موضوع پر بات کرے گا تو کہے گا کہ ہمار ااہل اسلام سے صرف حیاۃ و وفات عیسیٰ علیہ السلام میں اختلاف ہے ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں حالانکہ ہمارا قادیانیوں سے اختلاف صرف حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام میں ہی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حمل سے اُن کی وفات تک کی پوری زندگی میں اختلاف ہے ملاحظہ فرمائیں :
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم صدقہ پاک دامنہ عورت تھیں قرآن مجید ہمارا گواہ ہے ارشاد ہے ان اللہ اصطفک و طہرک اوراُمّہ صدیقہ’’اُن کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کی والدہ پاک دامن ہیں جبکہ مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ مریم صدیقہ کے یوسف نجار نامی شخص سے تعلقات تھے ۔ 
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت کریں کہ حضرت مریم کے یوسف نجار نامی شخص سے تعلقات تھے ۔(نعوذباللہ )
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم صدیقہ کو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل بغیر مرد کے محض اللہ کی قدرت سے ہوا اس عقیدے کو قرآن مجید کی سورت مریم میں بیان فرمایا گیا ہے ارشاد ہے :
بلکہ قادیانیوں کی عقیدہ ہے کہ حضرت مریم کے یوسف نجار نامی شخص سے تعلقات کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ٹھہرا ۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حمل اللہ کی قدرت سے نہیں ہوا بلکہ انسانی دخل کا نتیجہ ہے ۔(نعوذباللہ )
ہماراعقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول تھے قرآن مجید آپ کی رسالت پر گواہ ہے ورسولاً الی بنی اسرائیل’’وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے ‘‘۔
جبکہ مرزا قادیانی کی بہت سی تحریرات کی رو سے پتہ چلتا ہے کہ اُن میں رسولوں والی صفات نہ تھیں ۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ قرآن و حدیث سے اپنے اس دعوے کو ثابت کریں ۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔
جبکہ مرزا قادیانی کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جھوٹ بولتے تھے ۔
ہمارا سوال ہے کہ قرآن و حدیث سے اپنے اس دعوے پر کوئی دلیل پیش کریں ۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خاندان نہایت پاک اور مطہر ہے چنانچہ قرآن مجید میں آپ کی والدہ اور نانا کے نام پر سورتوں کے نام رکھے گئے اور خاندان کی تعریف بیان فرمائی گئی ہے ۔
جبکہ قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زانی اور کسبی عورتیں تھیں ۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا قرآن و حدیث سے اپنے اس باطل کفریہ عقیدے پر کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں ؟۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب نہیں پیتے تھے ۔
جبکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیتے تھے ۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا قرآن و حدیث سے اس پر کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے ؟۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی نہ پکڑا سکے قرآن مجید اس عقیدے پرگواہی دیتا ہے واذ کففت بنی اسرائیل عنک ۔
جبکہ قادیانی عقیدے کے مطابق یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گواہ کر لیا تھا ۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا قادیانی قرآن و حدیث کو اپنے باطل عقیدے کے ثبوت میں پیش کر سکتے ہیں ؟۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی ذلیل و رسوا نہ کر سکے قرآن مجید آپ علیہ السلام کے دنیا و آخرت میں صاحب عزت ہونے کا اعلان کرتا ہے وجیھاً فی الدنیا ولاآخرۃ۔
جبکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کے ارادے سے پکڑا ،کانٹوں کا تاج پہنایا ،گالی گلوچ کی اور بہت ذلیل و رسوا کیا ۔
ہمارا سوال ہے کہ قادیانی اپنے اس غلیظ عقیدے پر قرآن و حدیث سے کوئی دلیل پیش کریں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی نہ چڑھا سکے قرآن مجید اسی عقیدے کو بیان کرتا ہے وما صلبوہ۔
جبکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھانے میں کامیاب ہو گئے ۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا وہ اس من گھڑت عقیدے پر قرآن و حدیث سے کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں ۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں سے بچایا اور آپ کو آسمانوں کی طرف خرق عادت ہجرت کروائی قرآن مجید اسی ہجرت کو بیان کرتا ہے بل رفعہ اللہ الیہ،ورافعک الیّ ومطہّرک من الّذین کفرو۔
جبکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کشمیر کی طرف ہجرت فرمائی اور 87سال کشمیر میں رہے ۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کیا وہ قرآن و حدیث سے کشمیر کی ہجرت کا ثبوت دے سکتے ہیں ؟87سال تک جو وحی آپ پر ہوتی رہی اُس کا وجود کہاں ہے ؟87سال میں جو قوم آپ پر ایمان لائی وہ کہاں ہے ؟تعجب ہے ہجرت سے قبل نازل ہونے والی وحی آج بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے لیکن 87سالہ وحی کا کوئی پتہ نہیں ؟ہجرت سے پہلے ماننے والی قوم عیسائی آج بھی موجود ہے لیکن کشمیر میں جو لوگ ایمان لائے اُن کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟۔
اور کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر کی قبر کا ثبوت قرآن وحدیث یا سابقہ کسی کتاب میں مل سکتا ہے ؟تعجب ہے کہ آپ کو چاہنے والی قوم عیسائی اور آپ کے دشمن یہودی مرزے کی آمد تک اس قبر سے بے خبر رہے ؟تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کا انکشاف نہ عیسائی قوم کو ہوا اور نہ ہی یہودیوں کو بلکہ رسول اللہﷺ حق کے اعلان اور باطل کے بطلان کے لیے تشریف لائے وہ بھی بے خبر رہے اگر کسی پر انکشاف ہوا تو وہ ایک آنکھ سے بھینگے مرزا قادیانی پر ۔۔۔۔۔۔؟؟۔
’’قادیانی نظریات کہاں سے آئے ‘‘ 
قادیانیت مرزا قادیانی کا ایجاد کردہ دین ہے جس کو مرزا نے اسلام میں تحریف کر کے اس میں بہائیت کے خیالات ،یہودیت کے عقائد و الزامات اور اپنے خود ساختہ من گھڑت الہامات شامل کر کے تیار کیا ہے اسی لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ اور ان کے خاندان پر جو الزامات یہودیوں نے لگائے اور ان کے بارے میں جو عقائد و نظریات اپنائے وہی الزامات مرزے نے بھی لگائے ہیں اور وہی عقائد و نظریات اپنی کتابوں میں نقل کئے ہیں ذیل میں یہودیوں اور مرزائیوں کے عقائد کا ایک تقابلی جائزہ پیش کر کے فیصلہ قارئین پر چھوڑا جاتا ہے کہ قادیانیت و یہودیت میں کتنا قرب ہے ،قادیانیت یہودیت کے قریب ہے یا اسلام کے ؟:
عقائد یہودی عقائد مرزائی 
حضرت مریم پاکدامنہ نہیں تھیں ۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے ۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بہن بھائی بھی تھے ۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر معجزات کا ظہور نہیں ہوا۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بدکار عورتوں سے تعلق تھا ۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے ۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے ذلیل و رسوا کیا ۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے سولی چڑھا دیا ۔ ً ً 
حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ً ً 
شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم نے فرمایا تھا :
قادیانیت یہودیت کا حربہ ہے ۔