عقیدہ ختم نبوت کی تعریف


اللہ تعالیٰ نے نبوت کے سلسلے کی ابتداء ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام سے فرما کر سید البشر سیدناحضرت محمد ﷺ پر تکمیل فرمائی ،آپﷺ پر نبوت مکمل ہو گئی ،آپﷺ ہی آخر الانبیاء ہیں آپﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی اس مبارک عقیدے کو ’’عقیدہ ختم نبوت ‘‘کہتے ہیں ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا ایک متفقہ ،اُصولی ،اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے عقیدہ ختم نبوت کو دین اسلام میں وہی حیثیت حاصل ہے جو ایک بلند و بالا عمارت میں بنیاد کو یا جو ایک تندرست و توانا انسانی جسم میں شہ رگ کو ،جیسے بنیاد کے بغیر عمارت کا وجود باقی نہیں رہ سکتا اور شہ رگ اور دل کے بغیر انسان بے حس و بے حرکت ہے ایسے ہی عقیدہ ختم نبوت کے بغیر دین باقی نہیں بچ سکتا اسی وجہ سے عقیدہ ختم نبوت کو ضروریات دین میں بنیاد شمار کیا گیا ہے کہا گیا ہے فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
اِذْ لَمْ یَعْرِفْ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ لِاَنَّہُ مِنَ الضَّرُوْرِیَاتِ ۔
ترجمہ: جو شخص نہ جانتا ہو کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں وہ مسلمان نہیں کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے۔ 
اس بات پر پوری امت کا اجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوی نبوت کرناصریح کفر ہے چنانچہ نویں صدی کے مشہور محدث ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے :
دَعْوَی النُّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَاکُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ
پوری امت کا اتفاق ہے کہ ہمارے نبی کریمﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرنا کفر ہے۔
بلکہ سراج الامت حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کایہ فتویٰ موجود ہے کہ حضورﷺ کے بعد نبوت کے دعوے دا ر سے دلیل ما نگنے والا بھی کافر ہے چنانچہ کسی نے حضرت امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ مدعی نبوت سے اس کے دعویٰ نبوت پر دلیل مانگنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا ’’مَنْ طَلَبَ مِنْہُ عَلَامَۃً فَقَدْ کَفَرَ‘‘ جس نے مدعی نبوت سے دلیل طلب کی وہ بھی کافر ہو گیا ۔ کیونکہ جیسے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت میں شک کرنا کفر ہے ایسے ہی آنحضرتﷺ کی ختم نبوت میں شک کرنا بھی کفر ہے اور نبوت کے دعویدار سے دلیل مانگنا شک ہی کی علامت ہے۔
Download finality-of-prophet-hood.pdf