عقیدہ ختم نبوت قرآن کریم کی روشنی میں

عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید:

عقیدہ ختم نبوت کو قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات میں مختلف طرق و اسالیب سے تشریح و توضیح فرمائی گئی ہے چند آیات ملاحظہ کیجئے:
پہلی دلیل:
قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں کہیں اس امت سے نبوت اور وحی پر ایمان لانے کا اقرار کروایا ہے یا جس جگہ ہدایت و نجات کے لیے وحی و نبوت پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا ہے وہاں صرف دو ہی قسم کی وحیوں اور نبوتوں کاذکر ملتا ہے ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والی نبوت و وحی اور دوسری وہ وحی اور نبوت جو آپﷺسے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کو ملی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کونبوت ملے اور پھر اس پر وحی بھی نازل ہو جس پر ایمان لانا ہدایت و نجات کے لیے ضروری ہو ،پورے قرآن مجید میں اس کا اشارۃً کنایۃً کہی کوئی ذکر نہیں ،اگر آنحضرتﷺ کے بعد نبوت جاری ہوتی اور کسی فرد بشر کو نبوت ملنا ہوتی تو پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی وحی و نبوت کی نسبت نئے آنے والے نبی کی وحی و نبوت پر ایمان لانے کا اقرار کروانا زیادہ ضروری اور لازمی تھا کیونکہ پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی وحییں تو گزر چکیں اُن پر عمل بھی منسوخ ہو چکا اس اُمت کا تو آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والی نبوتوں اور وحیوں سے واسطہ پڑ نا تھا لیکن پورے قرآن مجید میں آنحضرتﷺ کے بعد کسی وحی و نبوت کے ہونے کا ذکر تک نہیں جو اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آپﷺ کی نبوت و وحی آخری ہے آپﷺ کے بعد نبوت و وحی کا منصب کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں :
یُوْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْن ۔(سورۃ البقرۃ ۴) 
ترجمہ: ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا آپ کی طرف اور اس پر کہ جوکچھ نازل ہوا آپ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں۔
یا اَہْلَ الْکِتَابِ ہَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّا اِلَّا اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ۔
(سورۃ المائدہ آیت نمبر ۵۹)
ترجمہ: اے اہل کتاب ! تمہیں اس کے سوا ہماری کونسی بات بری لگتی ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کلام ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو پہلے اتارا گیا تھا اس پر ایمان لے آئے ہیں۔
اس اور اس جیسی دیگر ۳۰ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہم سے صرف آنحضرت ﷺ کی وحی و نبوت اور آنحضرتﷺ سے پہلے والے انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوتوں اور وحیوں پر ایمان لانے کا تقاضہ کیا ہے اور آپﷺ کے بعد کسی بھی کتاب ،وحی اور نبوت پر ایمان لانے کا بالکل ذکر نہیں فرمایا ہم قادیانی جماعت کو چیلنج کے ساتھ کہتے ہیں کہ پورے قرآن مجید میں کسی ایک مقام پر بھی اس اُمت کو آپﷺ کے بعد نازل ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا گیا اور پھر مذکورہ آیت میں دو وحیوں (پہلی یُوْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ یعنی آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی وحی اور دوسری یُوْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یعنی آنحضرتﷺ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کرام کی وحی پر ایمان لانے والوں کو دو سندیں عطا فرمائی گئی ہیں ایک اُوْلٰءِکَ عَلٰی ہُدًی مِّن رَبَّھُمْ کہ یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور دوسری اُوْلٰءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ کہ یہی کامیاب ہیں ۔ یعنی جو لوگ دو وحیوں پر ایمان لے آئے وہی ہدایت یافتہ اور دارین میں کامیابی پانے والے ہیں اس آیت سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ ہدایت اور کامیابی دو قسم کی وحیوں پر ہی ایمان لانے میں منحصر ہے اگر آپﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہوتا جس پر وحی نازل ہوتی اور اس وحی پر ایمان لانا ضروری ہوتا تو مِنْ قَبْلَ کے بعد مِنْ بَعْدَ بھی ذکر ہوتا کہ ہدایت یافتہ اور فلاح پانے والے وہ لوگ ہیں جو تین طرح کی وحیوں پر ایمان لاتے ہیں پہلی یُوْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ آنحضرتﷺ پر نازل ہونے والی وحی ،دوسری وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ آنحضرتﷺ سے پہلے نازل ہونے والی وحی اور تیسری وَمَا یُنَزَِّلُ مِنْ بَعْدِکَ جو آنحضرت ﷺ کے بعد نازل کی جائے گی۔
تعجب ہے انبیاء گذشتہ کی وحیوں سے ہمارا واسطہ ہی نہیں پڑا لیکن پھر بھی اُن پر اجمالاً ایمان لانے کا حکم ہے اور جس وحی سے واسطہ پڑنا تھا اس کا پورے قرآن میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں؟

دوسری دلیل:
اللہ تعالیٰ کے پیارے خلیل سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اس موقع پر ان دو حضرات نے اللہ تعالیٰ سے چند دعائیں کیں جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ بقرہ میں نقل فرمایا ہے اُن دعاؤں میں سے ایک دعا بیت اللہ کی آبادی کے لیے ایک عظیم الشان رسول کی بعثت کی بھی تھی ایسا رسول جو خانہ کعبہ کو آباد کرنے والا ہو ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو نقل فرمایا ہے:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ آیَا تِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ، اأنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ۔ (سورہ بقرہ رکوع ۱۵ آیت نمبر ) 
ترجمہ:اے ہمارے پرور دگار ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہی میں سے ہو ،جو ان کے سامنے تیری آیات کی تلاوت کرے انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنائے،بے شک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے کہ جس کا اقتدار بھی کامل ہے اور جس کی حکمت بھی کامل ہے ۔
اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی شامل تھے اور دعامیں صرف ایک رسول کی بعثت کا سوال کیا گیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرماتے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی اولاد سے فقط ایک ہی رسول کو مبعوث فرمایا اور وہ رحمت کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں آپ ﷺ کے علاوہ جس قدر انبیاء ورسل دنیا میں بھیجے گئے وہ تمام کے تمام حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بھا ئی حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے مبعوث ہو ئے حضرت اسحاق علیہ السلام کی آل سے مبعوث ہو نے والے انبیاء ’’ انبیاء بنی اسرائیل کیلاتے ہیں‘‘ اور جب انبیاء بنی اسرائیل کے سلسلہ کے آخری رسول حضرت سیّدنا المسیح عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام تشریف لائے تو انہوں نے اپنی قوم کو نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا پیغام ان الفاظ میں دیا ۔
مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَد ۔ (الصف ۶) 
اے میری قوم میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک ہی رسول تشریف لائیں گے جن کا نام احمد ہو گا۔
چنانچہ جب نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ تشریف لائے تو آپﷺ نے ان دونوں آیتوں کی روشنی میں یو ں ارشاد فرمایا :
اَنَا دَعْوَۃُ اِبْرَاھِیْمَ وَبَشَارَۃُعِیْسی ٰ۔ (کنز العمال ج۱۱ص۳۸۴)
کہ میرے جدامجد سیّدنا ابراہیم علیہ السلام نے جس ایک عظیم رسول کی دعا فرمائی اور جس آخری رسول کی بشارت میرے بھائی سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام نے دی وہ میں ہو ں غرض کہ یہ دونوں آیتیں بھی آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر دلیل ہیں۔
مرزائی جسارت:
تمام مفسرین کے نزدیک سورۃ صف کی مذکورہ آیت میں اسْمُہٗ اَحْمَدکے مصداق آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے لیکن قادیانی تحریف کرتے ہوئے بکواس کرتے ہیں کہ اس بشارت و پیشگوئی کے مصداق آنحضرت ﷺنہیں بلکہ مرزا قادیانی ہے ،قادیانیوں کا یہ عقیدہ رکھنا تحریف بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کی شان پاک میں توہین بھی ۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْن 
تیسری دلیل:
آپﷺ سے قبل جس قدر انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے وہ سب محدود زمانوں کے لیے تشریف لاتے تھے ہر نئے نبی کی آمد پر گزشتہ نبی کی نبوت کا زمانہ ختم ہو جاتا اور ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تشریف لانے والے انبیاء مخصوص علاقوں کے لیے نبی اور رسول بن کر آئے کو ئی نبی ایک قصبے کیطرف کوئی ایک شہر کیطرف ، کوئی ایک ملک کیطرف ، کوئی ایک قبیلہ کیطرف اور کوئی ایک قوم کیطرف نبی اور رسول بن کر تشریف لائے۔
چناچہ انبیاء گزشتہ کی نبوت کے بارے میں قرآن ان الفاظ میں اعلان کرتا ہے ۔
وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ھُوْدًا۔
قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ھود کو بھیجا۔ (پارہ نمبر ۸سوۃ الاعراف آیت نمبر ۲۴)
وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْباَ ۔ 
مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ۔ (پارہ نمبر ۸سوۃ الاعراف آیت نمبر۸۵)
وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرٰءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ۔
اور عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔
(پارہ نمبر ۸سوۃ الاعراف آیت نمبر ۵)
لیکن تاجدار ختم نبوت نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر اللہ تعالیٰ نے اسلوب بدل دیا اور بڑی وضاحت کے ساتھ حکم فرمایا :
قُلْ یَا اَیُّہَا النَّاسُِ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّہِ اَلَیْکُمْ جَمِیْعًا ۔ (سورہ اعراف نمبر۱۵۸)
ترجمہ:(اے رسول اللہ ان سے )کہو کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں 
وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا۔ ( سورۃسباآیت نمبر۲۸)
ترجمہ:(اے پیغمبر)ہم نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔
وَاَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلاً۔ (سورۃ النساء پ ۵)
ترجمہ:اور (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو لوگوں کے پاس رسول بنا کر بھیجا ہے ۔
وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ (پارہ نمبر ۱۸سورۃ الانبیاء آیت نمبر۱۰۷)
ترجمہ:اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
ان آیات میں اللہ رب العز ت اعلان فرما رہے ہیں کہ ہم نے آپ کو تمام جہانوں ،تمام مکانوں ،تمام زمانوں اور تمام انسانوں کی طرف نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے کوئی رنگت، کوئی زبان ،کوئی قومیت ، کوئی وطن اور کوئی زمانہ آپ کی عالمگیروسیع الزمان نبوت سے مستثنیٰ نہیں ،آپ قیامت تک کے انسانوں کی طرف نبی اور رسول بن کر تشریف لائے ہیں جیسے کہ آپ نے خود ارشاد فرمایا:
اَنَا رَسُوْلٌ مَنْ اَدْرَکُ حَیًّا وَمَنْ یُوْلَدُ بَعْدِی
کہ میں ان لوگوں کے لیے رسول ہوں جن کو اپنی زندگی میں پاؤں اور ان کے لیے بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے ۔
جیسے اللہ تعالیٰرَبِّ النَّاس، مَلِکِ النَّاسِِ،ِ اِلٰہِ النَّاسِ ہیں ایسے ہی حضور تاجدار ختم نبوت حضرت محمد مصطفیﷺ رَسُوْلِ النَّاسِ ہیں جس کا مطلب یہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کا الہ ،مالک اوررب ہے اسی طرح آپﷺبھی تمام انسانوں کے نبی اور رسول ہیں اور جیسے قیامت تک کے انسانوں کی نجات اللہ تعالیٰ کو الہ ،رب ، مالک ماننے میں ہے ایسے ہی قیامت تک آنے والے ہر انسان کی نجات آپ ﷺ کو ہی نبی اور رسول ماننے کے ساتھ وابستہ کردی گئی ہے لہذا آپ ہی کی رسالت پر ایمان لانا معتبر ہے ایسی صورت میں کسی نئے نبی کی ضرورت ہر گز نہیں رہی ۔
چوتھی دلیل:
وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَّا آتَیْتُکُمْ مِنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌمُّصَدِّقٌلِمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ۔ (سورۃ آل عمران رکوع نمبر ۹ آیت نمبر ۸۱)
ترجمہ:اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ )جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کردوں پھر تمہارے پاس آخری رسول آئے جو اس (کتاب)کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤگے اور ضرور اس کی مدد کرو گے ۔
اس آیت میں خداوند عزوجل نے اس عہد و میثاق کا ذکر فرمایا ہے جو ازل میں تمام انبیاء سے آنحضرتﷺکے بارے میں لیا گیا ہے ۔
آیت کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ یوم اَرواح میں جس وقت حق تعالیٰ نے تمام مخلوق کی ارواح پیدا فرماکر ان سے اپنے رب ہونے کا عہد و اقرار لیا ،اور پوچھا اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْکیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ‘‘تو سب ارواح نے جواب میں کہا بلیٰ کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں ربوبیت کے اس عہد عام کے ساتھ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے ایک خاص وعدہ بھی لیا گیا جیسے قرآن کی مذکورہ بالا آیات میں ذکر کیا گیا ہے اور یہ عہد و اقرار ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں تھا کہ اے انبیاء کی جماعت میں تمہیں نبوت و رسالت دے کر دنیا میں بھیجوں گا پھر بالفرض تمہارے زمانہ نبوت میں میرے آخری پیغمبر محمدﷺ تشریف لے آئے یا تم ان کے زمانے کو پالو تو تم اپنی کتاب کو چھوڑ دینا اور ان پر ایمان لاکر اُن کے دین کی مدد بھی کرنا۔
اس آیت میں ’’ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ الخ ‘‘کے الفاظ قابل توجہ ہیں جن میں نبی کریم ﷺ کے تمام انبیاء کے بعد تشریف لانے کو لفظ’’ ثم ‘‘کے ساتھ ادا کیا گیا ہے جو لغت عرب میں تراخی یعنی مہلت کے لیے آتا ہے جیسے کہ کہا جاتا ہے ’’جَاءَنِی الْقَوْمُ ثُمَّ زَیْدٌ ‘‘ تو لغت عرب میں اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ میرے پاس قوم کے سارے افراد آگئے اور پھر ان سب کے آخر میں زید بھی میرے پاس آگیا اور چونکہ یوم ارواح کے اس عہد میثاق میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام شریک تھے اس لیے ’’النَّبِیِّیْن‘‘ کے بعد ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْل کے یہ معنی ہوئے کہ یہ تمام انبیاء کے آنے کے بعد سب سے آخر میں آنحضرت ﷺ تشریف لائیں گے ۔
مرزائی جسارت:
آیت مبارکہ میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺکے زمانہ نبوت میں اگر کوئی بھی پیغمبر موجود ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نبوت و کتاب کو سمیٹ دے خود بھی آنحضرتﷺپر ایمان لائے اور اور دوسروں کو بھی آپ ﷺ پر ہی ایمان لانے کی دعوت دے لیکن قادیانی ذریت کے نزدیک اس آیت میں ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْل سے مراد آنحضرت ﷺ نہیں بلکہ مرزا قادیانی ہے اور مرزا قادیانی ہی آخری نبی ہے تو اس صورت میں مطلب یہ ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سمیت تمام نبیوں سے یہ وعدہ لیا کہ اگر تم میں سے کسی ایک نے بھی مرزا قادیانی کے زمانے کو پالیا تو اپنی نبوت و کتاب کو بند کر دینا اور مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان لاکر اس کی اقتداء کرنا یعنی قادیانی عقیدے کے مطابق آنحضرتﷺ کو بھی نجات حاصل کرنے کے لیے مرزا قادیانی پر ایمان لانا ضروری ہے (نعوذباللہ من ذالک)