عقیدہ ختم نبوت اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا اجماع

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع :
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اُمت کا سب سے بہترین طبقہ ہیں یہ نزول قرآن کے عینی شاہد ہیں انہوں نے براہ راست رسول پاکﷺ سے دین سیکھا یہ طبقہ یقینی نجات پانے والا ہے اس طبقے کا کسی بات پر متفق ہو جانااُس بات کے درست ہونے کی پختہ دلیل ہے اس مقدس گروہ کا بھی اس بات پر اجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔
چنانچہ جب مسیلمہ کذاب نے آپﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں دعویٰ نبوت کیا تو جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے محض دعویٰ نبوت کی وجہ سے اور اس کی جماعت کو اس بدبخت کے دعویٰ نبوت میں تصدیق کرنے کی وجہ سے کافر سمجھتے ہوئے ان سے عام کفار کی نسبت زیادہ سخت معاملہ کیا۔ یہ اسلام میں سب سے پہلا اجماع تھا ۔حالانکہ مسیلمہ کذاب بھی مرزا قادیانی کی نبوت کا دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا ظاہری اقرار بھی کرتا تھا ۔یہاں تک کہ اس کی اذان میں ’’اشہد انّ محمدا رسول اللہ ‘‘پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی بوقت اذان اس کی شہادت دیتا تھا ۔تاریخ طبری ص۲۴۴ج۳میں ہے۔
وہ (مسیلمہ)نبی کریمﷺکے لیے اذان میں یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور اس کا مؤذن عبد اللہ بن نواحہ اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا اور جب حجیر شہادت(اشہد ان محمدا رسول اللّٰہ)پر پہنچتا تو مسیلمہ بآواز بلند کہتا تھاکہ حجیر نے صاف بات کہی اور پھر اس کی تصدیق کرتا تھا ۔
الغرض نبوت و قرآن پر ایمان ،نماز ،روزہ سب کچھ ہی تھا ۔مگر ختم نبوت کے بدیہی مسئلہ کے انکار اور دعویٰ نبوت کی وجہ سے باجماع صحابہ کرام کافر سمجھا گیا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد بن ولید کی امارت میں مسیلمہ کے ساتھ جہاد کے لیے یمامہ کی طرف روانہ کیا۔
تمام صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہ کیا اور کسی نے نہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں ،کلمہ گوہیں نماز، روزہ، حج ،زکوۃ ادا کرتے ہیں ،ان کو کیسے کافر سمجھ لیا جائے یہ دلیل ہے کہ سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ ختم نبوت پر منعقد ہوا ۔مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں بارہ سو صحابہ کرام شہید ہوئے ۔جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ تھے ،جس سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ختم نبوت کی صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے نزدیک کتنی اہمیت تھی ۔
ختم نبوت پر اجماع اُمت کے حوالہ جات 
صحابہ کرام رضون اللہ عنہم کے اجماع کے بعد اُمت کے اجماع کا درجہ ہے اور پوری اُمت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضورﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کسی بھی قسم کے دعویٰ نبوت کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے یہ بات پورے چیلنج سے کہی جا سکتی ہے کہ پوری اُمت مسلمہ میں سے کوئی ایک بھی ایسا عالم نہیں جس نے حضرت محمدﷺ کو آخری نبی ماننے کے عقیدے سے اختلاف کیا ہو ۔ذیل میں اجماع اُمت پر چند حوالے ذکر کیے جاتے ہیں :
ملا علی قاری رحمہ اللہ جو اس صدی کے امام گزرے ہیں شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں :
’’دَعْوَیٰ النُّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَا ﷺ کُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ‘‘
’’ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے‘‘ (شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲)
حجۃ الاسلام امام غزالی ’’الاقتصاد‘‘میں فرماتے ہیں :
’’ اَنَّ الْاُمَّۃَ فُہِمَتْ بِالْاِجْمَاعِ مِنْ ہٰذَا اللَّفْظِ ومِنْ قَرَاءِنِ اَحْوَالِہٖ اَنَّہ‘ اَفْہَمَ عَدَمَ نَبِیِّ بَعْدَہ‘ اَبَدًا۔۔۔۔۔۔۔وَاَنَّہ‘ لَیْسَ فِیْہٖ تَأْوِیْلٌ وَلَاتَخْصِیْصٌ فَمُنْکِرُ ہٰذَا لَا یَکُوْنُ اِلَّا مُنْکِرُ الْاِجْمَاعِ‘‘ (الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۲۳)
’’بیشک اُمت نے بالاجماع اس لفظ ( خاتم النبیین )سے یہ سمجھا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپﷺکے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں ۔پس اس کا منکر یقیناً اجماع اُمت کا انکار کرنے والا ہے ۔‘‘
ختم نبوت پر اجماع کو علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں اس طرح بیان فرمایا ہے :
’’وَمَنِ اعْتَقَدَ وَحْیًا بَعْدَ مُحَمَّدٍﷺ کُفْرٌ بِاجْمَاعِ الْمُسْلِمِیْنَ ۔‘‘
’’اور جو شخص آنحضرت ﷺکے بعد کسی وحی کا معتقد ہو وہ باجماع المسلمین کافر ہے ۔‘‘ 
خلاصہ یہ کہ ساری اُمت کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپﷺکے بعد کسی بھی شخص کو کسی بھی زمانے میں کسی بھی قسم کی نبوت نہیں دی جائے گی اور جو کوئی بھی دعویٰ نبوت کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔