عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کے پیش نظر عالم ارواح میں حضرات انبیاء کرام سے اس عقیدے کا اقرارکروایا گیا انبیاء کرام علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی خاتمیت کی خبر دیتے رہے اور مختلف شعائر دین سے بھی ختم نبوت کی جھلک نظر آتی ہے ملاحظہ کیجئے اور ختم نبوت کی عظمتوں کو عام کیجئے۔


عالم ارواح میں ختم نبوت کی تذکرہ:

 
’’ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَکُمْ رَسُوْلٌ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ‘ قَالَ أَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْ وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنْ ۔
ترجمہ: اور یاد کریں جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے وعدہ لیا جب میں تمہیں کتاب و حکمت دوں گا پھر تمہارے پاس ایسا رسول آئے جو تمہاری تصدیق کرنے والا ہو تو تم ضرور بہ ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اقرار کیا انہوں نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں فرمایا تم سب گواہ بن جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کا ذکر فرمایا ہے جو ازل میں تمام نبیوں سے آنحضرت ﷺ کے بارے میں لیا گیا ۔آیت کی تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم ارواح میں جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کی روحوں کو پیدا فرمایا تو ان سے رب ہونے کا عہد قرار لیتے ہوئے پوچھا (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب روحوں نے کہا ’’بَلٰی‘‘ ہاں آپ ہی ہمارے رب ہیں اس عہد عام کے ساتھ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سے ایک خاص وعدہ بھی لیا گیا جس کا ذکر مذکورہ بالا آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے فرمایا کہ میں تمہیں نبوت ورسالت دے کر دنیا میں بھیجوں گا پھر بالفرض تمہارے زمانہ نبوت میں میرے آخری پیغمبر محمدﷺ تشریف لے آئیں یاتم اُن کے زمانے کو پالو تو تم اپنی کتاب چھوڑ دینا اور ان پر ایمان لے آنا اُن کے دین کی مدد کرنا۔
سبحان اللہ! ختم نبوت کی شان دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ عالم ارواح میں سب انبیاء کرام علیہم السلام کے سامنے تذکرہ فرمارہے ہیں اور خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت پر خود گواہ بنتے ہوئے تمام نبیوں کو بھی گواہ بنا رہے ہیں۔
تفسیر ابن جریر میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:
لَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیَّا آدَمَ وَمَنْ بَعْدَہ‘ اِلَّا اَخَذَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْعَھْدَ لَءِنْ بُعِثَ مُحَمَّدٌﷺ وَھُوَ حَقٌ لَیُؤمِنُنَّ بِہٖ وَلَیَنْصُرُنَّہ‘ ۔
حق تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا تو یہ عہد ان سے ضرور لیا کہ اگر ان کی زندگی میں حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوں تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں ۔ 
(ابن جریر ج3ص232)
عالم دنیامیں ختم نبوت کا تذکرہ :
اللہ رب العزت نے عالم دنیامیں سب سے پہلے سیدنا ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو حضرت آدم علیہ السلام پر ختم نبوت کا علم یوں ثبت فرمادیا کہ اُن کے دونوں کندھوں کے درمیان آنحضرتﷺ کی رسالت و ختم رسالت نبوت و ختم نبوت کی مہر لگادی ۔حدیث شریف میں ہے:
َبیْنَ کَتِفَیْ آدَمَ مَکْتُوْبٌ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنْ ۔ (خصائص الکبریٰ ص19ج1)
حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان محمد رسول اللہ خاتم النبیین لکھا ہوا تھا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ وَھُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ ۔ (شمائل ترمذی ص2)
آپﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپﷺ انبیاء علیہم اسلام کے ختم کرنے والے ہیں قربان جائیں ختم نبوت پر جب پہلے نبی حضرت آدم تشریف لائے تو ختم نبوت کا نشان لے کر دیگر انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے تو ختم نبوت کا اقرار کر کے اور آپ ﷺ تشریف لائے تو سراپا ختم نبوت بن کر۔
عالم برزخ میں ختم نبوت کا تذکرہ:
برزخ قبر کے جہان کو کہتے ہیں جب مرنے والے کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو دو فرشتے منکر نکیر مردہ سے تین سوال کرتے ہیں ۔ ’’مَنْ رَبُّکَ ‘‘تیرا رب کون ہے؟ ’’مَا دِیْنُکَ‘‘ تیرا دین کیا ہے؟ اور’’ مَنْ نَّبِیُّکَ ‘‘تیرا نبی کون ہے؟
ایک حدیث میں ہے کہ مومن جواب میں کہتا ہے۔
رَبِّیْ اللّٰہُ وَحْدَہ‘ لَاشَرِیْکَ لَہ‘ الْاِسْلَامُ دِیْنِیْ وَمُحَمَّدٌ نَبِیِّیْ وَھُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ ۔
میرا پروردگار اللہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں جو خاتم النبیین ہیں۔
اس جواب میں فرشتے کہتے ہیں :
صَدَقْتَ تو نے سچ کہا (تفسیر درمنثور ج6ص165)
قربان جائیں آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر کہ قبر میں فرشتے بھی ختم نبوت کا اقرار کرنے والوں کا اکرام کرتے ہیں اور یقیناًقبر میں عذاب سے نجات بھی صرف اسی کی ہوگی جو آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پرغیر مشروط اور پختہ ایمان رکھتا ہو گا۔
عالم آخرت میں ختم نبوت کا تذکرہ:
روز محشر جب حساب و کتاب شروع نہیں ہوگا لوگ سخت مصیبت میں ہوں گے نفسا نفسی کا عالم ہوگا تو لوگ شدت عذاب و تکلیف سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی خدمت میں جا کر عرض کریں گے کہ آپ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سفارش فرمائیں کہ حساب و کتاب شروع فرمادیں لیکن ہر نبی اللہ تعالیٰ کے جلال کی وجہ سے عذر کردے گا پھر سب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے وہ بھی عذر کریں گے اور فرمائیں گے:
اِذْھَبُوْا اِلیٰ مُحَمَّدٍ ﷺ فَیَاتُوْنَ مُحَمَّدًا فَیَقُوْلُوْنَ یَا مُحَمَّدُ اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَاتَمُ اْلَانْبِیَاءِ ۔ (بخاری ج2ص685مسلم ج1ص111)
تم سب حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ بس وہ سب لوگ آپﷺ کے پاس آئینگے اور کہیں گے اے محمدﷺ آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔
آپﷺ سر مبارک سجدے میں رکھ دیں گے اور اللہ کی ایسے الفاظ میں حمد بیان فرمائیں گے کہ کسی اور نے ایسے الفاظ میں حمد نہ کی ہوگی اور پھر حساب و کتاب کے شروع کرنے کی سفارش فرمائیں گے اس پر اللہ رب العزت فرمائیں گے۔
اِرْفَعْ رَأْسَکَ یَا مُحَمَّدُ اِشْفَعْ تُشَفَّعْ.... الخ
اے محمد ﷺ سراٹھائیں سفارش کریں سفارش قبول کی جائے گی۔
سبحان اللہ ! آنحضرتﷺ کی ختم نبوت کی عظمت دیکھئے کہ جس دن سب انبیاء سفارش نہ کرسکیں گے اُس دن خاتم الانبیاء ﷺ سفارش فرماہے ہیں اور اللہ محشر میں بھی آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا علم بلند فرمارہے ہیں اللہ کی قسم عظمتوں والے ہیں وہ لوگ جو آنحضرتﷺ کی ختم نبوت کا نہ صرف اقرار کرتے ہیں بلکہ دفاع بھی کرتے ہیں۔
مساجد اور ختم نبوت:
پہلی امتیں بھی عبادت گاہ بناتی تھیں اگر وہ آباد نہ ہوسکے تو وہ لوگ انہیں مختلف کاموں کیلئے استعمال کرنے لگتے تھے چنانچہ آج بھی عیسائی امت اپنی عباد ت گاہ ’’گرجا‘‘ بناتے ہیں پھر اگر عیسائی لوگ وہاں نہ آئیں تو اُسے تبدیل کر کے بلڈنگ ، دُکان ،مکان اور جواخانہ وغیرہ کے طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں بخلاف اہل اسلام کی عبادت گاہوں کے اگر مسلمان کسی جگہ مسجد بنادیں تو وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے اس مسجد کو کسی اور استعمال میں نہیں لا سکتے کبھی آپ نے سوچا ایسا کیوں ہے ؟ یہ اس لیے ہے کہ پہلے انبیاء کی نبوتیں اور شریعتیں محدود زمانوں کے لیے تھیں اس لیے ان کی عبادت گاہیں بھی محدود زمانے کے لیے تھیں جبکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و شریعت قیامت تک کے لیے ہے اس لیے مساجد بھی قیامت تک کے لیے ہیں۔تعجب ہے اُن لوگوں پر جو مساجد میں ختم نبوت کے کام سے روکتے ہیں حالانکہ دنیا کی ہرمسجد کا تقدس اور بقا ختم نبوت کی وجہ سے ہے اور ہر مسجد ختم نبوت کی دلیل ہے۔
حفاظ کرام اور ختم نبوت:
سابقہ امتوں کو جو کتابیں اور صحائف ملے اُن میں سے کوئی بھی آج اپنی اصل شکل میں محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی اُن کتب کی حفاظت کا انتظام کیا گیا جبکہ قرآن مجید جیسے نازل ہوا ویسے ہی مکمل اور محفوظ ہے آج تک اس میں ایک زیر زبر کی بھی تحریف (کمی زیادتی) نہ ہو سکی اور نہ قیامت تک ہوسکتی ہے کیا آپ نے سوچا ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی کتب محدود وقت کے لیے تھیں اور پھر انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ بھی جاری تھا جب کتاب میں تحریف ہوتی تو نئے آنے والے نبی آکر نشاندہی فرمادیتے تھے اس لیے اُن کتب کی خاص حفاظت کا وعدہ نہیں دیا گیا جبکہ آنحضرتﷺ پر نازل ہونے والی کتاب ’’ قرآن مجید‘‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت تک آنے والوں کیلئے آخری کتاب ہے اور آپﷺ کی نبوت بھی آخری ہے اس لیے قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے کیا ہے چنانچہ شروع سے آج تک علماء کے ذریعے قرآن کریم کے معانی و مفاہیم کی حفاظت ، قراء کرام کے ذریعے تلفظ اور لہجہ کی حفاظت اور حفاظ کرام کے ذریعے متن کی حفاظت کروائی جارہی ہے گویا دنیا کا ہر مدرسہ ،عالم ، قاری اور حافظ ختم نبوت کی دلیل ہے ۔ اس لیے ہر عالم ، قاری اور حافظ کے ذمہ ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنی صلاحیتوں کو وقف کرے کیونکہ اُس کو ملنے والی ساری عظمتیں ختم نبوت ہی کے صدقے سے ہیں۔
تبلیغ اسلام اور ختم نبوت:
پہلے ادیان کی نشرو اشاعت تبلیغ، دفاع اور غلبہ کیلئے کاوشیں کرنا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ذمے تھا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام تبلیغ دین، دفاع دین اور غلبہ دین کے لیے محنت کیا کرتے تھے جبکہ آپﷺ کی ختم نبوت کے صدقے یہ سب کام امت کے ذمے لگا دئیے گئے ہیں ۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دین کی خدمت میں مصروف ہر امتی نبوت کی دلیل ہے اس لیے تبلیغ دین، دفاع دین اور غلبہ دین کی محنت میں لگے ہر مسلمان کے ذمہ ہے کہ وہ تحفظ ختم نبوت میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اس کی دینی خدمت ختم نبوت کا ہی صدقہ ہے ۔
قارئین کرام ! آپ نے دیکھا کہ عالم ارواح ہو یا عالم دنیا ،عالم برزخ ہو یا عالم آخرت ،حضر ت آدم علیہ السلام کی خلقت ہو یا دیگر انبیاء علیہم السلام کی بعثتیں، مساجد ہوں یا مدارس، علماء ہو ں یا حفاظ ،تبلیغ دین ہو یا دفاع دین اول سے آخر ،افلاق سے افلاک تک ہر جگہ اور ہر دور میں ختم نبوت کی عظمتیں ،صداقتیں اور بہاریں نظر آتی ہیں اور اللہ ہم سب پر ختم نبوت کی عظمتوں کو کھول دیں اور ہمیں تحفظ ختم نبوت کی عظیم سعادت کے لیے قبول فرمالیں۔ آمین
Download huzoor-salullahu-alih-wassalam-sey-nisbat.pdf