عقیدہ ختم نبوت احادیث مبارکہ کی روشنی میں

’’ختم نبوت اور احادیث مبارکہ‘‘ 
آنحضرت ﷺ نے متواترہ احادیث میں اپنے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمایا ہے اور ختم نبوت کی ایسی تشریح بھی فرمادی ہے کہ اس کے بعدآپ ﷺ کے آخری نبی ہونے میں کسی شک و شبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں رہی ۔ متعدد اکابر علماء نے احادیث ختم نبوت کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے چنانچہ حافظ ابن حزم ظاہری کتاب الفصل ص۷۷جلد نمبر ۱ پر لکھتے ہیں :
وَقَدْ صَحَّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَقْلِ الْکَوَافِ الَّتِیْ نُقِلَتْ نُبُوَّتُہٗ وَاَعْلَامُہٗ وَکِتَابُہٗ اَنَّہٗ اَخْبَرَ اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ۔
وہ تمام حضرات جنہوں نے آنحضرتﷺ کی نبوت،آپ ﷺ کے معجزات اور آپﷺ کی کتاب (قرآن مجید)کو نقل کیا ہے ،انہوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔
پس عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اسی طرح آنحضرتﷺکی احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے ۔یہاں اختصار کے پیش نظر چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث نمبر ۱:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ مَثَلِی وَ مَثَلَ الْاَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَتَعَجَّبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلاَّ وُضِعَتْ ہٰذِہِ لَّبِِنَۃِ قَالَ فَاَنَا لَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنْ ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شحص نے بہت حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور خوب تعریف کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی ؟آپﷺ نے فرمایا میں وہی اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں ۔
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ختم نبوت کی ایک محسوس مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے محل کی آخری اینٹ لگنے سے محل مکمل ہو جاتا ہے جس کے بعد نہ تو کوئی اینٹ نکالی جاتی ہے اور نہ ہی مزید اینٹ لگنے کی گنجائش رہتی ہے ایسے ہی نبوت کے محل کی آخری اینٹ آپ ﷺ ہیں آپﷺ کے آنے سے نبوت کا محل مکمل ہو گیا اب جیسے یہ ممکن نہیں کہ آپﷺسے ماقبل کسی نبی سے نبوت واپس لے لی جائے ایسے ہی یہ بھی ناممکن ہے کہ آپﷺکے بعد کسی اور کو نبوت عطا کی جائے۔پھر آپ ﷺ نے مثال بیان فرمانے کے بعد واضح الفاظ میں یہ بھی فرما دیا کہ میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں یعنی جو سلسلہ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا اللہ نے وہ مجھ پر ختم فرما دیا ہے اب میرے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی ۔
مرزائی جسارت:
مرزا قادیانی کے نزدیک محل نبوت کی تکمیل آنحضرتﷺ پر نہیں بلکہ مرزا قادیانی پر ہوئی ہے چنانچہ مرزا قادیانی آنحضرتﷺسے مقابلہ کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیش گوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا (محل) کو کمال تک پہنچادے بس میں وہی اینٹ ہوں (یعنی میں آخری نبی ہوں) (خزائن ج16ص178)
حدیث نمبر ۲:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ اُعْطَیْتُ بجَوَامِعِ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَجُعِلْتُ لِیَ الْاَرْضُ طُہُوْرًا وَمَسْجِدًا وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ ۔ (صحیح مسلم ص۱۹۹ ج۱) 
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیاء کرام پر فضیلت دی گئی ہے :
(۱) مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں ۔ (۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے ۔ (۳) مال غنیمت میرے لیے حلال کر دیا گیا ۔ (۴) روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا ۔ (۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ۔ (۶) مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ۔
اس حدیث شریف میں رحمت کائناتﷺ نے دیگر انبیاء علیہم السلام پر چھ وجوہ سے اپنی فضیلت بیان فرمائی ہے جن میں سے ایک ’’ وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ ۔‘‘کہ مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے اور یہ آپﷺ کی امتیازی خصوصیت بھی ہے کہ آپﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کرام علیہم السلام صرف نبوت اور رسالت ہی سے سرفراز فرمائے گئے تھے جبکہ آپﷺ کو نبوت اور ختم نبوت دونوں سے سرفرازفرمایا گیا ہے ۔اور ایسے ہی پہلے انبیاء ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے جبکہ آپﷺکو تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور اس بعثت عامہ کو ختم نبوت لازم ہے ۔ان مذکورہ فضا ئل میں سے کسی کا انکار آنحضرتﷺ کی فضیلت کا انکار ہے 
حدیث نمبر۳:
احادیث میں عقیدہ ختم نبوت کو مختلف انداز سے بیان فرمایا گیا ہے اور جہاں کہیں اس کے خلاف کا ذرہ برابر بھی گمان کا اندیشہ ہوا فوراً اس کی وضاحت کر دی گئی چنانچہ غزوہ تبوک کے موقع پر آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ طیبہ میں اہل و عیال کی خبر گیری کے لیے چھوڑ دیا اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ افسردہ ہوئے اور بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جارہے ہیں اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
اَمَا تَرْضٰی اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنََََّہٗ لَا نَبِیَََّ بَعْدِیْ ۔
اور دوسری روایت میں ہے : اَنََّہٗ لَا نَبُوَّۃَ بَعْدِیْ ۔
تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
اورمُسْلِمْ کی ایک روایت میں ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ۔
اس حدیث شریف کے پہلے حصے انت منی بمنزلۃہارون من موسیٰ(تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہوجو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی) سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ حضرت ہارون علیہ السلام بھی نبی تھے ایسے ہی حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ بھی نبی ہوں، تو حدیث شریف کے دوسرے حصے الا انّہ لا نبیّ بعدی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں سے فوراً اس شبہ کا ازالہ فرما دیا کہ حضرت ہارون علیہ السلام رسول بھی تھے اور حضرت موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں اُن کے نائب بھی جبکہ اے علی! آپ میری غیر موجودگی میں صرف نائب ہوں گے نبی نہیں کیونکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد نبوت نہیں ہے ۔
حدیث نمبر ۴:
عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ خُطْبَۃِ یَوْمِ حَجَّۃِ الْوِدَاعِ :یٰاَیُّہَا النَّاسُ اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدِکُمْ فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَقُوْمُوْا شَہْرَکُمْ وَاَدُّوْا زَکوٰۃَ اَمْوَالِکُمْ طَیِّبَۃً بِہَا اَنْفُسَکُمْ وَاَطِیْعُوْا وُلَاۃَ اُمُوْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ ۔ (مسند احمد ج۲ص۳۹۱)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا نہ تمہارے بعد کوئی امت اپنے رب کی عبادت کرتے رہو ،اور پانچ نمازیں پڑھتے رہو ،اور رمضان کے روزے رکھتے رہو ،اور اپنے اموال کی زکوۃ خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو ،اور اطاعت کرتے رہو اپنے خلفاء اور حکام کی تو تم اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔
یہ حدیث شریف جمعۃ المبارک کے دن حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں کم و بیش سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے مبارک مجمع میں بیان فرمائی جس میں آپﷺ نے واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت جیسے تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں ایسے ہی میرے بعد کوئی نبی نہیں پھر احکام مخصوصہ کے بجا لانے اور اپنے بعد خلفاء وحکام کی اطاعت کرنے پر دخول جنت کا اعلان فرمایا اگر آپﷺ کے بعد اللہ نے کسی کو نبوت دینی ہوتی تو اس آخری اجتماعی خطبہ میں آپﷺ صرف اولوا لامر کی اطاعت پر اکتفا نہ فرماتے بلکہ انبیاء گزشتہ کی طرح اپنے بعد نئے نبی کی پیشن گوئی بھی فرماتے اور اس پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے کی بھی تاکید فرماتے ۔
حدیث نمبر ۵:
آنحضرت ﷺ نے جہاں احادیث میں مختلف انداز سے ختم نبوت کو بیان کیا ہے وہاں اپنے بعد نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کی بھی پیشن گوئی فرمائی ہے ۔ 
عَنْ ثُوْبَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِیٌ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ ۔
(ابوداود ص۵۹۵ ج ۲ ۔ترمذی ص ۴۵ج ۲) 
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت میں تیس جھوٹے ہونگے ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
یہ حدیث حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے علاوہ دس سے زیادہ صحابہ کرام سے مروی ہے ،اس حدیث شریف میں واضح اعلان ہے کہ آنحضرت ﷺکے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب و دجال ہے جب کہ اس کے برعکس ذخیرہ احادیث میں سے ایک بھی حدیث ایسی نہیں جس میں کسی نبی کے آنے کی پیشن گوئی کی گئی ہو ،اگر آپ کے بعد کسی کو نبوت ملنا ہوتی تو علی الاطلاق نبوت کے دعوے داروں کو کذاب و دجال نہ کہا جاتا بلکہ ایک کا استثناء ضرورہوتا ۔
مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق بے نظیر کتاب ’’ختم نبوت کامل‘‘ میں عقیدہ ختم نبوت کے ثبوت پر ۲۱۰ احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے مزید تفصیلات دیکھنے کے لیے’’ ختم نبوت کامل‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔