عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیوں سے چند سوالات

قادیانیوں سے ہمارے سوالات:
سوال:۔ مرزا قادیانی نے اپنی ابتدائی تحریروں میں لکھا ہے۔
آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کاذب اور کافر ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج1ص230)
دعویٰ نبوت کرنا اسلام سے خارج ہو کر کافروں سے ملنا ہے۔ (خزائن ج7ص297)
آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا لعنتی ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج2ص297)
نبوت کا دعویٰ کذب ،الحاد اور زندقہ ہے۔ (خزائن ج7ص297)
لیکن پھر حلقہ عقیدت پڑھنے پر نبوت و رسالت کا دعویٰ بھی کردیاچنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:
ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول ہیں۔
قادیانیوں سے ہمارا سوال ہے کیا مرزا قادیانی نبوت و رسالت کا دعویٰ کر کے اپنے پہلے اقوال کی وجہ سے کاذب ، کافر، اسلام سے خارج ،ملحد، زندیق اور لعنتی نہیں بن گیا؟
سوال:۔ مرز ا قادیانی نے نبوت ورسالت کے دعویٰ میں تدریج سے کام لیا ہے چنانچہ جب مناظر اسلام ، عالم دین، ملہم من اللہ ،مجدد وقت ،مثیل مسیح ، مسیح موعود، مہدی کے دعوے سے نبوت کے دعوے پر پہنچا تو لوگوں کی طرف سے سخت مخالفت ہوئی تو مرزا نے ابتداءً دعویٰ نبوت سے رجوع کر لیا اور ایک معذرت نامہ شائع کیا جس میں لکھا :
اس لفظ نبوت سے مراد حقیقی نبوت نہیں بلکہ صرف محدِّث مراد ہے ۔پھر لکھا: نبی کے لفظ کی جگہ محدث کا لفظ ہر جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمائیں۔ (مجموعہ اشتہارات ج1ص313-312)
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا تاریخ انبیاء میں کوئی نبی ایسا ہوا جس نے اقرار و انکار کی مشکوک کیفیت کے ساتھ دنیاوی ملازمین کی طرح آہستہ آہستہ ترقی کرتے ہوئے نبوت کا دعویٰ کیا ہو؟ اور کیا کوئی نبی ہوا جس نے لوگوں کی مخالفت اور خوف کی وجہ سے اپنے دعویٰ نبوت سے رجوع کیا ہو؟
سوال:۔ قادیانی عقیدے کے مطابق آنحضرتﷺ کے بعد نبوت جاری ہے اور اس کے ملنے کا معیار آنحضرتﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری ہے یعنی اب نبوت اسے ملے گی جو آپﷺ کی اطاعت کرے گا۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا پوری امت میں سے سوائے مرزے کے کسی اور نے آپ کی اطاعت نہیں کی ہے؟ وہ کون سی خوبیاں ہیں جو حضرت ابو بکر صدیق ،عمر فاروق، عثمان غنی ،علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم، عشرہ مبشرہ دیگر ڈیڑھ لاکھ صحابہ ،لاکھوں تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، ائمہ مفسرین، ائمہ محدثین، فقہاء کرام اور اولیاء اللہ میں تو نہیں پائی جاتی تھیں لیکن مرزا قادیانی میں موجود تھیں؟
قادیانی بتائیں کہ کیا مرزا قادیانی نے آنحضرتﷺ کی اتباع کی ہے ؟ مرزا نے جو اللہ تعالیٰ ، انبیاء کرام علیہم السلام ،نبی کریم ﷺ ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اہل بیت رضی اللہ عنہم ،اہل اسلام ،قرآن و حدیث اور حرمین شریفین کی توہینات کی ہیں کیا یہ اتباع رسولﷺ ہے؟ مرزا قادیانی نے جو مختلف مذاہب کے لوگوں کو فحش گالیاں دیں ہیں کیا یہ اتباع رسولﷺ ہے ؟ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں جو جھوٹ لکھے ہیں کیا یہ اتباع رسول ہے ﷺ؟ مرزا قادیانی نے جو شراب پی ، غیر محرم عورتوں سے تعلق رکھا کیا یہ اتباع رسولﷺ ہے؟ مرزے کا جہاد نہ کرنا ،زکوۃ نہ دینا ، حج نہ کرنا ، ہجرت نہ کرنا ،قرآن حفظ نہ کرنا ، حدود اللہ کو نافذ نہ کرنا وغیرہ کیا یہ سب اتباع رسولﷺ ہے؟
سوال:۔ قادیانی کہتے ہیں مرزا قادیانی کو آنحضرتﷺ کی اطاعت و پیروی کرنے کی وجہ سے نبوت ملی ہے۔
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ کیا آنحضرتﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری سے نجات مل سکتی ہے یا نہیں، اگر نجات مل سکتی ہے تو پھر مرزے کو ماننے کی کیا ضرورت ہے ؟ اور اگر نجات نہیں مل سکتی تو پھر مرزے کو نبوت کیسے مل گئی؟
کذب مرزا پر چند مزید دلائل
مختلف اساتذہ سے پڑھنا:
اسلامی عقیدے کے مطابق حضرات انبیاء کرام علیہم السلام تعلیم و تربیت میں کسی انسان کے شاگرد نہیں ہوتے بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ ہی ان کی تعلیم و تربیت فرماتے ہیں۔
مرزا قادیانی بھی اسلامی عقیدے کی تائید میں لکھتا ہے:
تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر استاد یا اتالیق کے آپ ہی نے تعلیم و تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیم کا نشان فرمایا:
(خزائن ج 1ص16)
جبکہ مرزا قادیانی نے تین اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ہے جن کے نام فضل الٰہی ، فضل احمد اور گل علی شاہ تھا۔
مرزا قادیانی کا مختلف اساتذہ سے پڑھنا اس کے کذب پر بڑا ثبوت ہے اور یہ بھی یاد رہے مرزا قادیانی اپنے اساتذہ کیلئے ’’نوکر ‘‘ کا لفظ استعمال کرتا تھا۔
مرزا قادیانی کی شاعری:
اسلامی عقیدے کے مطابق نبی شاعر نہیں ہوتا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : وَمَا عَلَّمْنٰہ‘ الشِّعْرَ وَمَا یِنْبَغِیْ لَہ‘ ہم نے انہیں شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی آپ کے شایان شان ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سب انبیاء کرام علیہم السلام شعر گوئی سے پاک ہونے میں برابر ہیں ۔ (الشرح البہوط)
جبکہ مرزا قادیانی نے نہ صرف بے تکے اشعار کہے بلکہ انتہائی لغو، بے ہودہ ، شہوانی اور فحش اشعار بھی کہے ہیں اس لیے اس بات کی تحقیق سے ہٹ کر کہ نبی شاعر ہوتاہے یا نہیں مرزے کے فحش اشعار کو دیکھ لیا جائے تو اسے شریف آدمی ثابت کرنا صرف مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوگا ملاحظہ کیجئے:
چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
زن بے گانہ پر شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
غیر مردوں سے مانگنا نطفہ سخت خبث اور بابکاری ہے
غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے وہ نہ بیوی زن بازاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بچاری ہے
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورو کی حق گذاری ہے
(خزائن ج10ص76)
احتلام اور مرزا قادیانی:
اسلامی عقیدے کے مطابق حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو احتلام نہیں ہوتا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کبھی بھی کسی نبی کو احتلام نہیں ہوا کیونکہ احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔
(خصائص الکبریٰ ج1ص70)
مرزا قادیانی بھی لکھتا ہے:
انبیاء سوتے جاگتے ناپاک خیالات دلوں میں نہیں آنے دیتے اس واسطے ان کو احتلام نہیں ہوتا ۔جبکہ مرزا قادیانی کو احتلام ہوتا تھا مرزا کا لڑکا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ مرزا قادیانی کو ایک سفر میں احتلام ہوگیا تھا۔
(سیرت المہدی جلد 1ص15)
قادیانی بتائیں کہ کون سے ناپاک خیالات تھے جن کی وجہ سے مرزے کو احتلام ہوتا تھا اور یہ ناپاک خیالات کس کی سوچ کا نتیجہ تھا ؟ کہیں وہ مرزے کی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم تو نہیں تھی؟
مرزا قادیانی کا نسب اور نبوت:
اسلامی عقیدے کے مطابق حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو جہاں ذاتی ،شخصی خوبیوں سے نوازا جاتا ہے وہاں خاندان بھی وہ دیا جاتا ہے جو حسب و نسب میں سب سے اعلیٰ اور برتر شمار ہومرزا قادیانی بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
لیکن اس کے برعکس مرزے کاخاندان جہاں ذات کے اعتبار سے بھی اعلیٰ نہ تھا وہاں اسلام کا غدار اور سرکار انگریز کا پکاوفادار خاندان تھا حتی کہ 1857ء کی جنگ آزادی کی تحریک میں مرزے کے باپ نے پچاس گھوڑے مع سواران مسلمانوں سے لڑنے کیلئے دیئے تھے۔
حسن اور مرزا:
حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو دی گئی شخصی خوبیوں میں سے حسن و جمال بھی ہے کہ نبی اپنی قوم میں سب سے زیادہ حسین و جمیل اور ہر طرح کے عیبوں سے پاک ہوتا ہے ۔
جبکہ مرزا قادیانی جہاں اخلاقی عیبو ں کا مجموعہ تھا وہاں ظاہری عیوب سے بھی خالی نہ تھا جس کا اندازہ مرزا قادیانی کی تصویر سے لگایا جاسکتا ہے۔
ہم قادیانی طبقہ کو دعوت غور وفکر دیتے ہیں کہ ذرا عقیدت کی پٹی اتار کر مرزا قادیانی کی تصویر کا اپنے قریبی متعلقین سے موازنہ کریںیقیناًہمارے مؤقف کی تائید میں آپ کا دل گواہی دے گا۔
مرگ مرزا اور تدفین:
اسلامی عقیدے کے مطابق نبی جہاں فوت ہوتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے چنانچہ آنحضرتﷺ کے وصال پر آپﷺ کی تدفین کے متعلق مشاور ت ہوئی تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے جو میں بھولا نہیں آپﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نبی کی روح اُس مقام پر قبض فرماتے ہیں جہاں وہ دفن ہونا پسند کرے۔
آپﷺ کے اس فرمان کے سامنے آنے پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کی تدفین حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں کردی۔
جبکہ مرزا قادیانی لاہورمیں اپنی ہی غلاظت پر گر کر عبرتناک موت مرا اور قادیان میں گندے نالے کے قریب دفن ہوا۔