تحریک ختم نبوت

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین ، اکمل الحمد علی کل حال والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی سید المرسلین وخاتم النبیین رسولہ محمد خیر الوریٰ صاحب قاب قوسین او ادنی وعلیٰ صحبہ البررۃ التقی کلما ذکرہ الذاکرون وکلما غفل عن ذکرہ الغفلون الھم صل علیہ وآلہ وسائر النبیین آل کل وسائر الصالحین نھایۃ ما ینبغی ان یسئلہ السائلون ۔ اما بعد 
متحدہ ہندوستان میں انگریز اپنے جورو ستم اور استبدادی حربوں سے جب مسلمانوں کے قلوب کو مغلوب نہ کر سکا تو اس نے ایک کمیشن قائم کیا جس نے پورے ہندوستان کا سروے کیا اور واپس جاکر برطانوی پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد مٹانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعویٰ کرایا جائے جو جہادکو حرام اور انگریز کی اطاعت کو مسلمانوں پر اولوالامر کی حیثیت سے فرض قرار دے۔
ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ ڈی سی آفس میں معمولی درجہ کا کلرک تھا۔ اردو، عربی اور فارسی اپنے گھر میں پڑھی تھی۔ مختاری کا امتحان دیا مگر ناکام ہوگیا۔ غرضیکہ اس کی تعلیم دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے ناقص تھی۔ چنانچہ اس مقصد کیلئے انگریزی ڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے اس سے ڈی سی آفس میں ملاقات کی ۔گویا یہ انٹرویو تھا مسیحی مشن کا اور ساتھ ہی یہ فرد انگلیند روانہ ہوگیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچ گیا۔ باپ نے کہا کہ نوکری کی فکر کرو، جواب دیامیں نوکر ہوگیا ہوں او ر پھر بغیر مرسل کے پتہ کے منی آرڈر ملنے شروع ہوگئے ۔مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوا دی۔ بحث و مباحثہ ، اشتہار بازی شروع کردی ۔یہ تمام تر تفصیل مرزائی کتب میں موجود ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کام کے لیے برطانوی سامراج نے مرزا قادیانی کا کیوں انتخاب کیا ۔ اس کا جواب خود مرزائی لٹریچر میں موجود ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان جدی پشتی انگریز کا نمک خوار خوشامدی اور مسلمانوں کا غدار تھا۔ مرزا قادیانی کے والد نے 1857ء کی جنگ آزادی میں برطانوی سامراج کو پچاس گھوڑے ،بمعہ سازو سامان مہیا کیے اور یوں مسلمانوں کے قتل عام سے اپنے ہاتھ رنگین کر کے انگریز سے انعام میں جائیداد حاصل کی ۔ مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکار میں مصروف رہا ۔ ستارہ قیصر یہ صفحہ 4میں اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں گذرا اور میں نے ممانعت جہاد اور نگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔ (تریاق القلوب صفحہ25)
غرضیکہ مرزا قادیانی کے گوشت پوست میں انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری رچی بسی تھی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ اس مقصد کے لئے انگریز کی نظر انتخاب مرزا قادیانی پر پڑی اور اس کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ جن حضرات کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ہر بات میں تضاد ہے لیکن حرمت جہاد اور فرضیت اطاعت انگریز ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں مرزا قادیانی کی کبھی دورائیں نہیں ہوئیں کیونکہ یہ اس کا بنیادی مقصد اور غرض و غایت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قرار دیا۔ سرسید احمد خاں مرحوم کی روایت جو ان کے مشہور مجلہ تہذیب الاخلاق میں چھپ چکی ہے کہ خود سرسید احمد خان سے انگریز وائسرائے ہند نے مرزا قادیانی کی امداد و اعانت کرنے کا کہا۔ بقول ان کے انہوں نے نہ صرف رد کردیا بلکہ اس منصوبہ کا راز افشا کردیا جس کے نتیجہ میں انگریز وائسرائے سرسید احمد خان سے ناراض ہوگئے۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ جات پر نظر ڈالیے ۔اس نے بتدریج خاد م اسلام ، مبلغ اسلام، مجدد، مہدی ، مثیل مسیح، ظلی نبی، مستقل نبی، انبیاء سے افضل حتیٰ کہ خدا ئی تک کا دعویٰ کیا ۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ ، گہری چال اور خطرناک سازش کے تحت کیا۔
قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی نور ایمانی اور بصیرت و جدانی سے مرزا قادیانی کے دعویٰ سے بہت پہلے پنجاب کے معروف روحانی بزرگ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ علیہ سے حجاز مقدس میں ارشاد فرمایا کہ پنجاب میں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے ،اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کے خلاف آپ سے کام لیں گے۔ بیعت و خلافت سے سرفراز فرمایا اور اس فتنہ کے خلاف کام کرنے کی تلقین فرمائی۔
ردقادیانیت کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے جن خوش نصیب و خوش بخت حضرات نے بڑی تندہی اور جانفشانی سے کام کیا۔ ان میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ علیہ ،حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ رحمہ اللہ علیہ ، حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ علیہ ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ ،حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ علیہ ، جناب مولانا قاضی احمد سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ علیہ ، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمہ اللہ علیہ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ علیہ ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی رحمہ اللہ علیہ،حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ علیہ ، پروفیسر میں الیاس برنی رحمہ اللہ علیہ، علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ علیہ ،حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ علیہ، حضرت مولانا ظفر علی خان رحمہ اللہ علیہ ، حضرت مظہر علی اظہر رحمہ اللہ علیہ ،حافظ کفایت حسین رحمہ اللہ علیہ ، حضرت مولانا پیر جماعت علی شاہ رحمہ اللہ علیہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
علمائے لدھیانہ نے مرزا قادیانی کی گستاخ و بے باک طبیعت کو اس ی ابتدائی تحریروں میں دیکھ کر اس کے خلاف کفر کا فتویٰ سب سے پہلے دیا تھا ، ان حضرات کا خدشہ صحیح ثابت ہوا اور آگے چل کر پوری امت نے علمائے لدھیانہ کے فتویٰ کی تصدیق و توثیق کی۔ غرض یہ کہ پوری امت کی اجتماعی جدوجہد سے مرزائیت کے بڑھتے ہوئے سیلا ب کو روکنے کی کوشش کی گئی یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ علیہ ،مولانا سید علی الحائری رحمہ اللہ علیہ سمیت امت کے تمام طبقات کو اپنے سب وشتم کا نشانہ بنایا کیونکہ یہی وہ حضرات تھے جنہوں نے تحریرو تقریر و مناظر و مباہلہ کے میدان میں مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو چاروں شانے چت کیا اور یوں اپنے فرض کی تکمیل کر کے پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق قرار پائے۔
مقدمہ بہاولپور:
تحصیل احمد پور شرقیہ ریاست بہاولپور میں ایک شخص مسمی عبد الرزاق مرزائی ہو کر مرتد ہوگیا ا س کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے سن بلوغ کو پہنچ کر 24جولائی 1926ء کو فسخ نکاح کا دعویٰ احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں دائر کر دیا جو 1931ء تک ابتدائی مراحل طے کر کے پھر 1932ء میں ڈسٹرکٹ جج بہاولپور کی عدالت میں بغرض شرعی تحقیق واپس ہوا ۔ آخر کار 7فروری 1935ء کو فیصلہ بحق مدعیہ صادر ہوا ۔ بہاولپور ایک اسلامی ریاست تھی ،اس کے والی نواب جناب صادق محمد خاں خامس عباسی مرحوم ایک سچے مسلمان اور عاشق رسول ﷺ تھے۔ خواجہ غلام فرید رحمہ اللہ علیہ بہاولپور کے معروف بزرگ کے عقیدت مند تھے۔ خواجہ غلام فرید رحمہ اللہ علیہ کے تمام خلفاء کو اس مقدمہ میں گہر ی دلچسپی تھی۔ اس وقت جامعہ عباسیہ بہاولپور کے شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی مرحوم تھے جو حضرت پیر مہر عی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ علیہ کے ارادت مند تھے ۔لیکن اس مقدمہ کی پیروی اور امت محمدیہ کی طرف سے نمائندگی کیلئے سب کی نگاہ انتخاب دیوبند کے فرزند شیخ الاسلام حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ علیہ پر پڑی ،مولانا غلام محمد صاحب کی دعوت پر اپنے تمام تر پروگرام منسوخ کرکے مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ علیہ بہاولپور تشریف لائے تو فرمایا کہ جب یہاں سے بلاوا آیا تو میں ڈابھیل کے لے بارکاب تھا مگر میں یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی شاید یہی بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ آنحضرتﷺ کا جانبدار بن کر بہاولپور آیا تھا، اگر ہم ختم نبوت کی حفاظت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔ ان کے تشریف لانے سے پورے ہندوستان کی توجہ اس مقدمہ کی طرف مبذول ہو گئی ،بہاولپور علم کی موسم بہار شروع ہوگئی۔ اس سے مرزائیت کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی ۔انہوں نے بھی ان حضرات علماء کی آ ہنی گرفت اور احتسابی شکنجے سے بچنے کیلئے ہزاروں جتن کئے۔ مولانا غلام محمد گھوٹوی ،مولانا محمد حسین کولوتارڑوی، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری، مولانا نجم الدین ، مولانا ابو الوفاشاہ جہان پوری اور مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم وشکراللہ سعیہم کے ایمان افروز اور کفر شکن بیانات ہوئے۔ مرزائیت بوکھلا اٹھی۔ ان دنوں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ پر اللہ رب العزت کے جلال اور حضور سرور کائنات ﷺ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جمال کا خاص پر تو تھا۔ وہ جلال وجمال کا حسین امتزاج تھے، جمال میں آکر قرآن و سنت کے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوار جھوم اٹھتے اور جلال میں آکر مرزائیت کو للکارتے تو کفر کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہوجاتا ، مولانا ابو الوفاشاہ جہان پوری نے اس مقصد میں مختار مدعیہ کے طور پر کام کیا ۔ ایک دن عدالت میں مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر فرمایا کہ اگر چاہو تو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہوکر دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے مرزائی کانپ اٹھے ۔ مسلمانوں کے چہروں پر بشاشت چھا گئی اور اہل دل نے گواہی دی کہ عدالت میں انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نہیں بلکہ حضور سرور کائنات ﷺ کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔
علمائے کرام کے بیانات مکمل ہوئے، نواب صاحب مرحوم پر گورنمنٹ برطانیہ کا دباؤ بڑھا۔ اس سلسلہ میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ لندن گئے ہوئے تھے ۔ نواب آف بہاولپور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارا کرتے تھے۔ نواب مرحوم سر عمر حیات ٹوانہ لند ن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز گورنمنٹ کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست بہاولپور سے اس مقدمہ کو ختم کرادیں تو اب مجھے کیا کہنا چاہیے ۔ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مأب کا تو ان سے سودا نہیں کیا، آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے میں حق انصاب کے سلسلہ میں اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا ۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ بیا ن کرکے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے ۔
جناب محمد اکبر جج مرحوم کو ترغیب و تحریص کے دام تزویر میں پھنسانے کی مرزائیوں نے کوشش کی لیکن ان کی تمام تدابیر غلط ثابت ہوئیں ، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اس فیصلہ کیلئے اتنے بے تاب تھے کہ بیانات کی تکمیل کے بعد جب بہاولپور سے جانے لگے تو مولانا محمد صادق مرحوم سے فرمایا کہ اگر زندہ رہا تو فیصلہ خود سن لوں گا اور اگر فوت ہو جاؤں تو میری قبر پر آکر یہ فیصلہ سنادیا جائے ۔چنانچہ مولانا محمد صادق نے آپ کی وصیت کو پورا کیا ۔آ پ نے آخری ایام علالت میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ و طلبہ اور دیگر بہت سے علماء کے مجمع میں تقریر فرمائی تھی ، جس میں نہایت دردمندی ودل سوزی سے فرمایا تھا۔ وہ تمام حضرات جن کو مجھ سے بلاواسطہ یا بالواسطہ تلمذ کا تعلق ہے اور جن پر میرا حق ہے کہ میں ان کو خصوصی وصیت اور تاکید کرتا ہوں کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت و پاسبانی اور فتنہ قادیانیت کے قلع قمع کو اپنا خصوصی کام بنائیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ ان کی شفاعت فرمائیں ، ان کو لازم ہے کہ ختم نبوت کی پاسبانی کا کام کریں۔
یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا ۔ جب 7فروری 1935ء کو فیصلہ صادر ہوا تو مرزائیت کے صحیح خدوخال آشکار ہوگئے ۔ بلاشبہ پوری امت جناب محمد اکبر خان جج صاحب مرحوم کی مرہون منت ہے کہ انہوں نے کمال عدل و انصاف محنت وعرق ریزی ایسا فیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل ثابت ہوا ۔ قادیانیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیرکی سربراہی میں سر ظفر اللہ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ و بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجہ پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی ۔ اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جائیں، کفر ہار گیا ، اسلام جیت گیا۔ ایک دفعہ پھر جاء الحق وزھق الباطل کی عملی تفسیر اس فیصلہ کی شکل میں امت کے سامنے آگئی اور مرزائی فبھت الذی کفر کا مصداق ہوگئے، اس تاریخ ساز فیصلہ نے چار دانگ عالم میں تہلکہ مچا دیا ۔ مرزائیوں کے ساکھ روز بروز گرنا شروع ہوگئی۔
تحریک ختم نبوت 1953ء:
ہندوستان تقسیم ہوا، خدا دداد مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی ، بد نصیبی سے اسلامی مملکت پاکستان کا وزیر خارجہ چودھری سر ظفر اللہ خان قادیانی کو بنایا گیا۔ اس نے مرزائیت کے جنازہ کو اپنی وزارت کے کندھوں پر لاد کر اندرون و بیرون ملک اسے متعارف کرانے کی کوشش تیز سے تیز کردی ، ان حالات میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ ، امیر کاروان احرار کی رگ حمیت اور حسینی خون نے جوش مارا، پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ،مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ ، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا پیغام لے کر ملک عظیم کی نامور دینی شخصیت اور ممتاز عالم دین اسلام مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دروازے پر گئے اور اس تحریک کی قیادت کا فریضہ انہوں نے ادا کیا ۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، مولانا خواجہ قمرالدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا پیر غلام محی الدین گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عبد الحامد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا پیر سرسینہ شریف رحمۃ اللہ علیہ، آغا شورش کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ، ماسٹر تاجدین انصاری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اختر علی خان رحمۃ اللہ علیہ،غرضیکہ کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک تمام مسلمانوں نے اپنی مشترکہ آئینی جدوجہد کا آغاز کیا۔ بلاشبہ برصغیر کی یہ عظیم ترین تحریک تھی۔ جس میں دس ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، ایک لاکھ مسلمانوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ دس لاکھ مسلمان اس تحریک سے متاثر ہوئے ۔ہر چند کو اس تحریک کو مرزائی اور مرزائی نوازاوباشوں سے سنگینوں کی سختی سے دبانے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے اپنی ایمانی جذبہ سے ختم نبوت کے اس معرکہ کو اس طرح سر کیا کہ مرزائیت کا کفر کھل کر پوری دنیا کے سامنے آگیا ۔ تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی ۔ عدالتی کاروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء اور وکلاء کی تیاری ،مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا بڑا کٹھن مرحلہ تھا اور ادھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا کے تحریک کے رہنماؤں کو لاہور میں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ جناب عبد الحکیم احمد سیفی نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت 7بیڈن روڈ لاہور کو تحریک کے رہنماؤں کے لیے وقف کردیا ۔ تمام تر مصلحتوں سے بالائے طاق ہوکر ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لیے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے رہنماؤں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی ۔ ان ایام میں شیخ المشائخ قبلہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ بھی وہیں قیام پذیر رہے اور تمام کام کی نگرانی فرماتے رہے۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے گرامی قدر فقاء مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبد الرحمن میانوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد شریف بہاولپوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا لال حسین اختر رحمۃاللہ علیہ اور مرزا غلا نبی جانباز رحمۃ اللہ علیہ کا یہ عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے الیکشنی سیاست سے کنارہ کش ہو کر خالصتاً دینی ومذہبی بنیاد پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بنیاد رکھی ۔ اس سے قبل مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ، چوہدری افضل حق رحمۃ اللہ علیہ اور خود حضرات امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے گرامی قدر فقاء نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے قادیانیت کو جو چرکے لگائے وہ تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ قادیان میں کانفرنس کر کے چور کا اس کے گھر تک تعاقب کیا ۔ نیز مولانا ظفر علی خاں رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر و تقریر کے ذریعے ردِّ مرزائیت میں غیر فانی کردار ادا کیا۔ مجلس احرار اسلام کی کامیاب گرفت سے مرزائیت بوکھلا اٹھی، مجلس احرار اسلام پر مسجد شہید گنج کا ملبہ گرا کر اسے دفن کرنے کی کوشش کی گئی ۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ مجلس احرار نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ تحریک مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں پورے ملک سے دو اکابر اولیاء اللہ ایک حضرت اقدس مولانا ابو السعداحمد خاں رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ہماری رہنمائی کی اور تحریک سے کنارہ کش رہنے کا حکم فرمایا ،حضرت اقدس ابو السعد احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ بانی خانقاہ سراجیہ نے یہ پیغام بھیجوایا تھاکہ مجلس احرار تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور مرزائیت کی تردید کا کام رکنے نہ پائے اسے جاری رکھا جائے اس لیے اگر اسلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی،اگر اسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو باقی کون رہنے دے گا؟
مسجد شہید گنج کے ملبہ کے نیچے مجلس احرار کو دفن کرنے والا انگریز اور قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس لیے کہ انگریز کو ملک چھوڑنا پڑا جبکہ مرزائیت کی تردید کیلئے مستقل ایک جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے تشکیل پا کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے ۔ان حضرات نے سیاست سے علیحدگی کا محض اس لیے اعلان کیا کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ مرزائیت کی تردید اور ختم نبوت کی ترویج کے سلسلہ میں ان کے کوئی سیاسی اغراض ہیں۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مرزائیت کے خلاف ایسا احتسابی شکنجہ تیار کیا کہ مرزائیت مناظرہ ، مباہلہ ،تحریر و تقریر اور عوامی جلسوں میں شکست کھا گئی ۔جگہ جگہ ختم نبوت کے دفاتر قائم ہونے لگے ،مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ نے برطانیہ سے اسٹریلیا تک قادیانیت کا تعاقب کیا ۔ مرزائیت نے عوامی محاذ ترک کر کے حکومتی عہدوں اور سرکاری دفاتر میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوشش و کاوش کی اور وہ انقلاب کے ذریعہ اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔
تحریک ختم نبوت 1974ء:
1970ء کے الیکشن میں چند سیٹوں پر مرزائی منتخب ہوگئے ۔ اقتدار کا نشہ اور ایک سیاسی جماعت سے سیاسی وابستگی نے انہیں دیوانہ کر دیا۔ وہ حالات کو اپنے لیے ساز گار پا کر انقلاب کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کی سکیمیں بنانے لگے ۔ قادیانی جرنیلوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردیں۔ اس نشہ میں دھت ہوکر انہوں نے 29مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے سٹیشن پر چناب ایکسپریس کے ذریعہ سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں تحریک چلی ۔مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستا ن کے امیر تھے ۔ان کی دعوت پر امت کے تمام طبقات جمع ہوئے ۔آل پارٹیز مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تشکیل پائی۔ جس کے سربراہ حضرت شیخ بنوری رحمۃ اللہ علیہ قرار پائے۔ امت محمدیہ ﷺ کی خوش نصیبی کہ اس وقت قمی اسمبلی میں تمام اپوزیشن متحد تھی۔ چنانچہ اپوزیشن پوری کی پوری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستا ن میں شریک ہو گئی۔
رحمۃ اللعالمین ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ملاحظہ ہو کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایک ہی نعرہ لگایا کہ مرزائیت کو غیرمسلم قرار دیا جائے ۔ اس وقت قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا عبد الحق، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبد المطفیٰ ازہری ، مولانا عبد الحکیمرحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقائے ختم نبوت کی وکالت کی ۔ متفقہ طور پر اپوزیشن کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزائیوں کے خلاف قرار داد پیش کی اور بر سر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی یعنی حکومت کی طرف سے دوسری قرار داد جناب پیر عبد الحفیظ پیرزادہ نے پیش کی جوان دنوں وزیر قانون تھے ، قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہوگئی۔ پورے ملک میں مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ،نوابزادہ نصراللہ خان رحمۃ اللہ علیہ ،آغاشورش کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ احسان الٰہی ظہیررحمۃ اللہ علیہ ، مولونا عبد القادر روپڑی رحمۃ اللہ علیہ ، مفتی زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا محمد شریف جالندھری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عبدا الستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر ،مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن، سید مظفر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا غضنفر کراروی، مولانا عبد الحکیم رحمۃ اللہ علیہ ، پیر شریف، حضرت مولانا محمد شاہ امروٹی رحمۃ اللہ علیہ ، غرضیکہ چاروں صوبوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک کے الاؤ کو ایندھن مہیا کیا ۔ اخبارات و رسائل نے تحریک کی آواز کو ملک گیر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا دباؤ بڑھتا گیا ۔ ادھر قومی اسمبلی میں قادیانی و لاہوری گروپوں کے سربراہوں نے اپنا اپنا مؤقف پیش کیا ۔ ان کا جواب اور امت مسلمہ کا موقف مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیاد ت میں مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا سمیع الحق اور مولانا سید انور حسین نفیس رقم نے مرتب کیا ۔اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے چودھری ظہور الٰہی کی تجویز اور دیگر تمام حضرات کی تائید پر قرعہ فال مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کا نام نکلا۔ جس وقت انہوں نے یہ محضر نامہ پڑھا ، قادیانیت کی حقیقت کھل کر اسمبلی کے ارکان کے سامنے آگئی ۔ مرزائیت پر اوس پڑگئی۔ نوے دن کی شب و روز مسلسل محنت و کاوش کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو کے عہد اقتدار میں متفقہ طور پر 7ستمبر 1974ء کو نیشنل اسمبلی آف پاکستان نے عبد الحفیظ پیر زادہ کی پیش کردہ قرارداد کو منظور کیا اور مرزائی آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔
الحمد اللہ رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ویرضی 
تحریک ختم نبوت 1984ء:
17فروری 1983ء کو مولانا محمد اسلم قریشی مبلغ تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کو مرزائی سربراہ مرزا طاہر کے حکم پر مرزائیوں نے اغواء کیا۔ جس کے رد عمل میں پھر تحریک منظم ہوئی ۔ شیخ الاسلام مولانا سید یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ، کی رحلت کے بعد اس وقت تک مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کو بوجھ میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔ اس لیے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی امارت بھی فقیر کے حصہ میں آئی۔ اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ فضل ہے جس سے جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے تمام طبقات کو اتفاق و اتحاد نصیب کر کے ایک لڑی میں پرودیا اور یوں 26اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈنینس صدر مملکت جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے ہاتھوں جاری ہوا۔ قادیانیت کے خلاف آئینی طور پر جتنا ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہوا لیکن جتنا ہوا اتنا آج تک کبھی نہیں ہوا تھا ۔ آج اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بن چکی ہے اور چاردانگ عالم میں رحمۃ اللعالمین ﷺ کی عزت و ناموس کے پھریرے کو بلند کرنے کی سعادتوں سے بہرہ ور ہورہی ہے۔ دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔
بدیہی حقیقت:
لیکن یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ان تمام تر کامیابیوں و کامرانیوں میں ’’ مقدمہ بہاولپور ‘‘ کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ ختم نبوت کے محاذ پر مضبوط بنیاد اور قانونی و اخلاقی بالادستی قادیانیت کے خلاف اسی مقدمہ نے مہیا کی ہے ۔فیصلہ مقدمہ کئی بار شائع ہوا ۔ علمائے کرام کے عدالتی بیانات بھی متعدد بار شائع ہوئے لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ اس مقدمہ کی تمام تر کاروائی ،حضرات علمائے کرام کی شہادتیں بیانات و دلائل اور حقائق مرزائی وکیلوں کے جواب میں بطور جواب الجواب بیانات جو عدالت کے ریکارڈ پر تھے اور جرح و بحث کی تمام تر تفصیلات سامنے آئیں، تاکہ علوم و حقائق کے بے بہا سمندرسے دنیائے اسلام فیضاب ہو۔ یہ سب کچھ عدالت کے ریکارڈ میں مخفی خزانہ کی طرح پوشیدہ تھا ۔ حالانکہ فیصلہ مقدمہ بہالپور کی ابتدائی اشاعت کے وقت ہی مولانا محمد صادق مرحوم نے اپنی اسی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تمام تر کاروائی کو شائع کیا جائے گا۔ لیکن کل امر مرھون باوقاتھا یہ کام آج تک پورے طور پر نہ ہوسکا تھا ۔اللہ رب العزت نے غیب سے اہتمام فرمایا۔ اسلامی دور اور جذبہ رکھنے والے حضرات کو اللہ رب العزت نے اس کام کی طرف متوجہ کیا ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ کام خود شروع نہیں کیا ۔ بلکہ قدرت الٰہی نے ان سے یہ کام شروع کرایا ۔ انہوں نے اسلامک فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ساٹھ بر س کی طویل مدت گذرنے کے بعد روداد مقدمہ حاصل کرنا اور اہل علم حضرات کیلئے مرتب کر کے پیش کرنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔ قدرت الٰہی نے دستگیری فرمائی۔ ان حضرات نے محنت کی ۔ کاروان اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہا۔ منزل قریب ہوتی رہی۔ مقدمہ کی تمام کاروائی حاصل ہوگئی ۔ اس کی ترتیب کا کام شروع ہوگیا۔ اسلامک فاؤنڈیشن کے نمائندوں نے اس بارے میں طویل ترین تکلیف دہ سفر برداشت کر کے ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ میں اصل مرزائی کتب سے حوالہ جات کو بار بار پڑھنا ، فوٹو سٹیٹ حاصل کیے ، شب وروز محنت و عرق ریزی کے بعد اسے کتاب کے لیے دیا گیا تاآنکہ اس وقت دو ہزار صفحات سے زائد مشتمل یہ مجموعہ تیار ہو کر منصۂ شہود پر آگیا ہے۔ اسلامک فاؤنڈیشن کے حضرات کی روشن دماغی اور اپنے مشن سے اخلاص کی بدولت ملک عزیز کے نامور عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان حضرات کی سر پرستی فرمائی۔ ان جیسے متبحر عالم حق کی سرپرستی ہی اس تاریخ دستاویز کی صحت و توثیق کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔
اس تاریخی دفینے اور علم و معرفت کے عظیم خزینہ کو مرتب کر کے پیش کرنا بلاشبہ اسلامک فاؤنڈیشن کا ایک تاریخی گرانقدر کارنامہ ہے۔ جس پر پوری امت کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کردیا ہے ۔ قادیانیت جس طرح آج پوری دنیا میں رسوائی کا شکار ہے ۔ اس کی بنیاد بھی اس مقدمہ نے مہیا کی تھی اور اب قادیانیت کا اختتام بھی اسی مقدمہ کی اشاعت سے ہی ہوگا۔
آخری گذارش:
ختم نبوت سے وحدت امت کا راز وابستہ ہے۔ فتنہ انکار ختم نبوت ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک استعماری سازش تھی ۔ آج کے تمام طبقات و مکاتب فکر مل کر ہی باہمی اتحاد و اعتماد سے اس فتنہ کو ختم کر سکتے ہیں۔ اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کی اس سنت کو زندہ رکھنے کی حکمت عملی کو اپنایا ہوا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کسی ایک فرقہ کا مسئلہ نہیں پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس میں کوشش و کاوش اور اجتماعی طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے اور رحمۃ اللعالمین ﷺ کی شفاعت کا باعث ہے۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت اقدس مولانا ابوالسعد احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ بانی خانقاہ سراجیہ، حضرت مولانا عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ خانقاہ سراجیہ، مولانا تاج محمد امروٹی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا غلام محمد دین پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا رسول خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ، پیر صبغت اللہ شاہ شہید رحمۃ اللہ علیہ پیر آف پگاڑہ شریف، حضرت حافظ پیر جماعت شاہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر جماعت علی شاہ لاثانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین تکوینی طور پر اس محاذ کے انچارج تھے۔
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگردوں کی ایک جماعت مرزائیت کے تعاقب کیلئے تشکیل دی تھی۔ جس میں حضرت مولانا محمد بدر عالم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ، جیسے حضرات شامل تھے جو قادیانیت سے تحریری و تقریری مقابلہ کرتے تھے اور دلائل باقی حضرات کے ذمہ تھے اور مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نشتر چبھویا کرتے تھے۔اللہ رب العزت سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، آمین۔ اللہ رب العزت کا فضل و احسان ہے کہ 1974ء میں مولانا سید محمد کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے قیادت و سیادت کا فریضہ سرانجام دیا ۔ جبکہ مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے صاحبزادہ مولانا محمد تقی عثمانی آپ کے ساتھ تھے۔ آج مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ہی کے شاگرد مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کا صاحبزادے مولانا محمد مالک کاندھلوی کی سرپرستی میں یہ عظیم معرکہ سر کیا گیا ہے۔
کڑورں رحمتیں ہوں، ان تمام مقدس حضرات پر جن کی شب و روز کی اخلاص بھری محنت رنگ لائی ۔ آج قادیانی پوری دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں۔ مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک کشف ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ پوری دنیا میں مرزائیت نام کی کوئی چیز تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملے گی۔ اسی طرح قطب دوراں حضرت مولانا عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خاص ارادت مند حاجی محمد عبد الرشید صاحب (مدظلہ) کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ قادیانیت حرف غلط کی طرح پوری دنیا سے مٹادی جائے گی۔ وہ وقت قریب آن پہنچا ہے کہ مرزائیت کا فتنہ دنیا سے نیست ونابودہونے والا ہے۔ اسلامیان عالم ہمت کریں آگے بڑھیں، منزل قریب ہے، رحمت حق انتظار کررہی ہے اور حضور ﷺ کی شفاعت کا مثردہ جاں فزا ملنے والا ہے۔ اللہ رب العزت ہماری ان حقیر محنتوں کو اخلاص کی دولت سے مالا مال فرما کر اپنی رضا کا سبب بنائے۔ آمین ثم آمین۔
واخر دعونا ان الحمد اللہ رب العالمین والصلوۃ
والسلام علی رسولہ النبی الکریم وعلی آلہ صحبہ
واتباعہ اجمعین برحمتک یا راحم الراحمین ۔
آمین آمین آمین .
محدث عظیم حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ
فتنہ قادیانیت کے آغاز کے بعدآپ کی ساری توجہ فتنہ کے استیصال کی طرف ہوگئی اور اس غم و پریشانی میں آپ تین ماہ تک سو نہ سکے ۔ حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرض الموت میں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی چار پائی دیوبند کی جامع مسجد کے صحن میں رکھوا کر تمام طالب علموں اور استاتذہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا:
تاریخ اسلام کا میں نے جس قدر مطالعہ کیا ہے اس کی بنیاد پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام کی تاریخ میں 14سو سال کے اندر قادیانیت سے بڑھ کر کوئی فتنہ ارتداد کا وجود میں نہیں آیا آپ سب حضرات اور جنہوں نے مجھ سے حدیث پڑھی ہے اور تمام مسلمانوں کو کہتا ہوں کہ اگر نجات اخروی اور شفاعتِ محمدی ﷺ چاہتے ہو تو مسلمانوں کے ایمان کو اس فتنہ ارتداد سے بچاؤ اور اپنی ساری قوتیں اس میں صرف کر ڈالو یہ ایک ایسا جہاد ہے جس کا بدلہ جنت ہے اور میں اس بدلے کا ضامن بنتا ہوں ۔ ایک مرتبہ فرمایا مجھے تین مرتبہ رحمتِ دو عالمﷺ کی زیارت ہوئی آپﷺ ہر مرتبہ توجہ دلاتے تھے کہ ختم نبوت کی حفاظت کرو اور قادیانی فتنہ کو نیست و نابود کرنے کی ہر ممکن سعی کرو۔ اپنے حلقہ علمی میں بیٹھ کر فرماتے تھے کہ دین میں بعض خدمتیں اقوال کا تحفط ہیں ، اعمال کا تحفظ ہیں ، آپ کی سیرت و صورت کا تحفظ ہے لیکن عقیدہ ختم نبوت سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذات کا تحفظ ہے اور ذات کا تحفظ باقی سب سے اولیٰ اور افضل ہے۔
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ
قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ اپنی نور ایمانی سے مرزا قادیانی کے دعوے سے بہت پہلے حضرت پیر مہر علی شاہ رحمہ اللہ سے حجاز مقدس میں بیعت و خلافت سے سرفراز فرما کر فرمایا کہ پنجاب میں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ سے اسکے خلاف کام لیں گے۔
پھر جب 1890ء میں پیر مہر علی شاہ صاحب مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو نبی کریم ﷺ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا مہر علی ہندوستا ن میں مرزا قادیانی میری احادیث کو تاویل کی قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے واپس جاؤ اور اس فتنہ کے خلاف کام کرو۔ چنانچہ پیر صاحب واپس ہندوستان تشریف لائے اور فتنہ مرزائیت کی سرکوبی کیلئے دن رات ایک کردیا۔ ایک دفعہ فرمایا’’ جوشخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے اس کی پشت پر نبیﷺ کا ہاتھ ہوتا ہے‘‘۔
شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ
شیخ التفسیر حضرت لاہوری رحمہ اللہ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ کو گرفتار ہوئے تو گرفتاری کے موقع پر فرمایا کہ نبی آخر الزمان ﷺکی حرمت کے لیے جیل جانا تو کیا اگر سر بھی کٹا نا پڑے تو میں اسے اپنے لیے عین سعادت سمجھوں گا ۔ ایک دفعہ مولانا تاج محمود رحمہ اللہ اور مناظرے اسلام مولانا لال حسین رحمہ اللہ حضرت لاہوری رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر تھے دوران گفتگو ختم نبوت کے ساتھیوں کا تذکرہ آگیاحضرت لاہوری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں ختم نبوت کے ساتھیوں سے محبت کرتا ہوں اور پھر فرمایا میں کیا ان سے تو خود سرکارِ دوعالم ﷺ محبت فرماتے ہیں ۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ نے ساری زندگی مجاہدین ختم نبوت کی سرپرستی فرمائی۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ محشر کا دن ہوگا رحمت دو عالم ﷺ جلوہ افروز ہوں گے صحابہ بھی ساتھ ہوں گے بخاری آئے گا حضور نبی کریم ﷺ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے بخاری تیری ساری زندگی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت میں گزری آج میدان حشر میں تیرا شفیع میں ہوں تیرے لیے کوئی باز پرس نہیں جا اپنے ساتھیو سمیت جنت میں داخل ہوجا تیرے اور تیری جماعت کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں جس طرف سے چاہو داخل ہوسکتے ہو۔ 
حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری رحمہ اللہ
عمدۃ المحقیقین ، بقیۃ السلف حضرت رائے پوری رحمہ اللہ کو حفاظت ختم نبوت اور تردید مرزائیت میں اس قدر شغف تھا کہ آپ کی مجلس میں عموماً قادیانیت کی اسلام دشمنی کا تذکرہ ہوتا تھا۔ وفات سے پندرہ دن پہلے فرمایا کہ مجھے ختم نبوت کے ساتھی سید عطاء اللہ شاہ بخاری ،مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا محمد حیات اور دیگر ساتھیوں سے بہت زیادہ پیا ر ہے ۔ کیونکہ یہ حضرات نبی پاک ﷺ کی ذات عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرتے ہیں ۔ ایک دفعہ کسی نے وظیفہ پوچھا تو فرمایا کہ کچھ درود شریف پڑھ لیا کریں اور ختم نبوت پر وعظ کیا کریں اور یہ کوئی چھوٹا وظیفہ نہیں یہ سب وظیفوں سے بڑا وظیفہ ہے کیونکہ پورے دین کا مدار حضورﷺ کی ختم نبوت پر ہے۔ پھر فرمایا ختم نبوت کی حفاظت ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا سب سے بڑا وظیفہ ہے۔
امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ
حضرت شاہ جی رحمہ اللہ کی زندگی کا مقصد نبی پاک ﷺ کی عزت وناموس ختم نبوت کا پہرہ دینا تھا۔ فرمایا ختم نبوت کی حفاظت میرا جزو ایمان ہے جو شخص بھی اس ردا کو چوری کرے گا جی نہیں چوری کا حوصلہ کرے گا میں اس کے گریبان کی دھجیاں پھاڑدونگا میں میاں ﷺ کے سوا کسی کا نہیں نہ اپنا نہ پرایا میں انہیں کا ہوں،وہ میرے ہیں ۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں بہت بڑا مقام عطا فرمایا ہے ۔ حضرت مولانا رسول خان صاحب رحمہ اللہ نے آپ کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا کہ آنحضرتﷺ جماعتِ صحابہ کرام میں تشریف فرما ہیں ۔ آپﷺ کی خدمت میں ایک دستار لائی گئی تو آنحضرتﷺ نے جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ کے سر پر باندھ دوں میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لیے بہت سارا کام کیا ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا سہانپوری رحمہ اللہ
آپ نے ایک دفعہ پیپلزکالونی فیصل آبادمیں مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ، ہمارے اکابر حضرت گنگوہی رحمہ اللہ ،حضرت مولانا انور شاہ صاحب رحمہ اللہ اور پھر سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ سے لے کر آپ تک سبھی حضرات نے امت کی اس فتنہ کے خلاف راہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو اس فتنے کے بڑھنے کے بہت سے اسباب تھے دیکھیے مولانا یہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے اگر حضورﷺ کا امتی بھی قادیانی ہوگیا تو ہم سے پوچھا جائے گا کہ مرزائیوں نے اس کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا تھا تم نے اس کا ایمان بچانے کی فکر کیوں نہ کی تھی۔
خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد صاحب رحمہ اللہ
1984ء میں جب ختم نبوت تحریک چلی تو اس کی قیادت حضرت خواجہ صاحب دامت برکاتہم فرمارہے تھے آپ کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ سے والہانہ محبت ہے۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا، حضرت جی آپ سب سے پہلے دعا کس کے لیے کرتے ہیں فرمایا میں سب سے پہلے دعا ختم نبوت کے مجاہدین کے لیے کرتا ہوں اور پھر اپنے مریدوں کے لیے فرمایا دراصل تحفظ ختم نبوت کا کام دنیا و آخرت کی رفعتیں ، عزتیں، کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹنے کا واحد راستہ ہے ۔ اس لیے اسے اہم ترین عبادت کا درجہ حاصل ہے شیطانی وسوسوں کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کم درجے کی عبادت کو اہم ترین بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ مسلمان اس میں مشغول ہو کر بڑے اجرو ثواب سے محروم ہوجائے فرمایا تحفظ ختم نبوت کا کام شفاعت محمدی ﷺ حصول ہے۔